Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

ہندوستان میں رات کے نو بجے ہوں تو مکہ معظمہ میں رات کے تین جس حصے میں جس وقت تہائی رات باقی رہے گی اس حصے میں اسی وقت یہ توجہ کرم ہوگی۔

۳؎  یہ جملہ متشابہات میں سے ہے اﷲ تعالٰی ہاتھ اور ہاتھ پھیلانے سے پاک ہے لہذا اس سے مراد اپنی رحمت و کرم کا وسیع فرمانا ہے۔

۴؎ یعنی تمہاری نیکیاں ہم پر گویا قرض ہوں گی جن کا عوض تمہیں ضرور ملے گا جیسے قرض خواہ کو غنی عادل مقروض کی طرف سے قرضہ ضرور واپس مل جاتا ہے۔خیال رہے کہ فقیر تو اپنی حاجت روائی کے لیئے قرض لیتے ہیں اور غنی و سلاطین رعایا کی حاجت روائی کے لیئے قرض لیتے ہیں،شاہی بینک پبلک کا روپیہ اس لیئے اپنے پاس رکھتے ہیں یا ملازمین کا فنڈ کاٹتے ہیں تاکہ یہ لوگ اپنی کمائی برباد نہ کرلیں پھر اسے قرض کہتے ہیں اور بوقت ضرورت مع سود واپس کرتے ہیں رب تعالٰی کا یہ قرضہ طلب فرمانا دوسری قسم کا ہے اور اسے قرض کہنا اظہار کرم اور ہمارے اطمینان کے لیئے ہے۔

1224 -[6]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاه وَذَلِكَ كل لَيْلَة» رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رات میں ایک گھڑی ہے نہیں پاتا اسے کوئی مسلمان کہ اﷲ سے اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی مانگے مگر رب اسے دیتا ہے اور یہ گھڑی ہر رات میں ہے  ۱؎(مسلم)

۱؎ بعض علماء نے فرمایا کہ روزانہ شب کی یہ ساعت قبولیت پوشید ہ ہے جیسے جمعہ کی ساعت مگر حق یہ ہے کہ پوشیدہ نہیں گزشتہ حدیثوں میں بتادی گئی ہے یعنی رات کا آخری تہائی خصوصًا اس تہائی کا آخری حصہ جو ساری رات کا آخری چھٹا حصہ ہے جو صبح صادق سے متصل ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس وقت مومن کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ کافر کی اگر قبولیت چاہتے ہو تو ایمان کامل کرو۔

1225 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَيَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ کو پیاری نماز داؤد علیہ السلام کی ہے اور اﷲ کو پیارے روزے داؤد علیہ السلام کے ہیں ۱؎ کہ آپ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات کھڑے رہتے پھر چھٹا حصہ سوتے ۲؎ اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن افطار کرتے۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یہاں نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اور روزے سے نفلی روزے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر انبیائے کرام بھی تہجد اور نفلی روزے ادا کرتے تھے مگر ان کے طریقے اور تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ طریقہ تھا جو یہاں مذکو رہے۔

۲؎ یعنی دو تہائی رات سوتے اور ایک تہائی رات جاگتے تھے اور اس جاگنے اور نماز کو دو نیندوں کے درمیان کرتے اب بھی یہی چاہیئے۔

۳؎  اسی طرح نوافل تہجد اور نفلی روزوں کی محبوبیت کی چندہ وجوہ ہیں:ایک یہ کہ اس میں روح کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور نفس کا حق بھی،تمام رات سونے ہمیشہ افطار کرنے سے روح کا حق رہ گیا۔اور رات بھر جاگنے،ہمیشہ روزے میں نفس کا حق مارا گیا۔دوسرے یہ کہ اس طرح تہجد،روزے نفس پر بھاری ہیں لہذا رب کو پیارے ہیں کیونکہ ہمیشہ روزے رکھنے میں روزہ عادت بن کر آسان معلوم ہونے لگتا ہے مگر اس طرح ہر روزے میں نئی لذّت محسوس ہوتی ہے۔تیسرے یہ کہ اس میں جسمانی طاقت بحال رہتی ہے گھٹتی نہیں طاقت ہی سے ساری عبادتیں ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تیرھویں،چودھویں،پندرھویں روزے رکھے کبھی،یہ



Total Pages: 519

Go To