Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1222 -[4]  

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ» يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ «لِكَيْ يُصَلِّينَ؟ رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَة» أخرجه البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدارہوئے کہ فرماتے تھے سبحان اﷲ اس رات کتنے خزانے اتر رہے ہیں اور کتنے فتنے نازل ہورہے ہیں ۱؎ ان حجرے والیوں کو کون اٹھائے ۲؎(آپ کی بیویوں کو)کہ نماز پڑھ لیں بہت سی دنیا میں ڈھکی ہوئی آخرت میں ننگی ہوں گی۳؎(بخاری)

۱؎ یعنی اس رات غافلوں کے لیئے فتنے اتررہے ہیں اور عابدوں کے لیئے اﷲ کی رحمتیں۔مرقاۃ نے فرمایا کہ فتنوں سے مراد صحابہ کرام کی آپس کی جنگیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں اور ہوسکتا ہے کہ قیامت تک جو فتنے اور رحمتیں دنیا میں آئیں گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آج ہی اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیں جیسے ہم خواب یا خیال میں آیندہ واقعات دیکھ لیتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہمارے خواب و خیال سے زیادہ تیز ہے۔

۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات اتنی آواز سے فرمائے کہ ازواج مطہرات نے بھی سن لیئے اور تمام تہجد کے لیئے اٹھ بیٹھیں آپ کا فرمانا کہ کون اٹھائے احسن طریقے سے اٹھانے ہی کے لیئے تھا۔

۳؎ یعنی جسم کا لباس کپڑا ہے روح کا لباس اعمال بہت سی مالدار اور عیاش عورتیں جو یہاں لباس فاخرہ پہنتی تھیں وہ قیامت میں اعمال سے خالی ہوں گی لہذا اے بیبیوں وہاں کے لباس کی تیاری کرو۔

1223 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ "وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ: «مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ؟ حَتَّى ينفجر الْفجْر»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر رات جب آخری تہائی رات رہتی ہے تو ہمارا رب تعالٰی دنیا کے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے ۱؎ ارشاد فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اسے بخش دوں ۲؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پھر اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے۳؎ اور فرماتا ہے کہ کون قرض دیتا ہے اسے جو نہ فقیر ہے نہ ظالم ۴؎ حتی کہ فجر چمک جاتی ہے۔

۱؎ یعنی اس کی رحمت اس کا کرم ادھر توجہ فرماتا ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی اترنے چڑھنے سے پاک ہے۔(لمعات)اس سے معلوم ہوا کہ رات دن سے افضل ہے کیونکہ قبولیت کی ساعت ہفتے میں ایک دن یعنی جمعہ میں آتی ہے اور وہ بھی ہم سے چھپی ہوتی ہے مگر رات میں روزانہ قبولیت کی ایک ساعت نہیں بلکہ بہت سی ساعتیں ہوتی ہیں رب اس وقت مانگنے کی توفیق دے۔

۲؎  اگرچہ رب کا یہ فرمان براہ راست ہم نہیں سنتے لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان ہم تک پہنچادیا تو گویا ہم نے سن ہی لیا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ اس فرمانے سے فائدہ کیا۔خیال رہے کہ رات کا آخری تہائی دنیا کے ہر حصے میں مختلف اوقات میں ہے۔مثلًا



Total Pages: 519

Go To