Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1217 -[7]

عَن أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثُمَّ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادٌ أَبُو دَاوُدَ بَعْدَ قَوْلِهِ: «غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ثَلَاثًا وَفِي آخر الحَدِيث: ثمَّ يقْرَأ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو تکبیر کہتے،پھر کہتے الٰہی  تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرا نام برکت والا ہے،تیری شان اونچی ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎ پھر کہتے ا ﷲ بہت ہی بڑا ہےپھر کہتے مردود شیطان سے سننے والے،جاننے والے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے وسوسوں سے اس کی پھونک سے اس کے تکبر سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابوداؤد نے غیرك کے بعد یہ بھی زیادہ کیا کہ پھر تین بار لا الہ الا اﷲ کہتے اور آخر حدیث میں ہے پھر قرأت کرتے۔

۱؎ یہاں تکبیر سے مراد تکبیر تحریمہ ہے یعنی آپ تہجد کی نماز شروع فرما کر قرأت سے پہلے یہ ذکر کرتے جیسے اور نمازوں میں کیا جاتا ہے مگر اس نماز میں آیندہ کلمات اور زیادہ فرماتے۔خیال رہے کہ جد کے معنی عظمت ہیں یا جائے پناہ اسی لیئے مال کو بھی جد کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو عظمت ملتی ہے اور دادا کو بھی اس سے خاندانی عظمتیں قائم ہوتی ہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان بہکاتے وقت انسان پر پھونکیں مارتا ہے جس سے وسوسے اور ناجائز تکبر پیدا ہوتے ہیں کیونکہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اور پھونک کو پھونک مٹاتی ہے اس لیئے مشائخ بھی شیطان وغیرہ کو دفع کرنے کے لیئے دم ہی کرتے ہیں۔پھونک کی تاثیریں اور فوائد ہماری کتاب "اسرار الاحکام"میں دیکھو

1218 -[8]

وَعَن ربيعَة بن كَعْب الْأَسْلَمِيّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ من اللَّيْل يَقُول: «سُبْحَانَ رب الْعَالمين» الْهَوِي ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» الْهَوِيِّ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَلِلتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح

روایت ہے حضرت ربیعہ ابن کعب اسلمی سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس میں رات گزارتا تھا،میں آپ کو سنتا تھا کہ جب آپ رات میں اٹھتے تو بہت دیر تک کہتے جہانوں کا پالنے والا پاک ہے پھر بہت دیر تک کہتے اﷲ پاک ہے اس کی حمد ہے ۱؎(نسائی)ترمذی میں اس کی مثل ہے،ا ور انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎  یعنی ربیعہ اپنے گھر کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس رات گزارتے اور چوکھٹ شریف پر سر رکھ کر آرام کرتے تاکہ رات میں بوقت ضرورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کریں اور آپ کے اعمال و اقوال شریفہ یاد کریں،اسی خدمت کا صلہ انہیں وہ ملا جو باب السجود میں گزر چکا یعنی جنت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی کریم کے دروازہ سے سب کچھ ملتا ہے۔غالب یہ ہے کہ یہ ذکر حضورصلی اللہ علیہ وسلم اندر حجرے میں کرتے تھے اور آپ باہر سنتے تھے۔


 



Total Pages: 519

Go To