Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

اﷲ پر سانس باہر نکالتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اگر آخر ی نیند یعنی موت پر یہ عمل نصیب ہوجائے تو زہے نصیب۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت تیمم ہی کرکے سوجائے یا طہارت سے مراد دل کا حسد اور کینہ وغیرہ سے پاک ہونا ہے۔

۲؎ اور ایسا شخص تمام رات کا عابد مانا جاتا ہے۔

1216 -[6]

وَعَنْ شَرِيقٍ الْهَوْزَنِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا: بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَتْ: سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا وَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا» وَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» عشرا واستغفر عشرا وَهَلل عَشْرًا ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ»عَشْرًا ثمَّ يفْتَتح الصَّلَاة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت شریق ہوزنی ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں جاگتے تھے تو ابتداء کس چیز سے کرتے تھے فرمایا کہ تم نے مجھ سے وہ چیز پوچھی جو تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہ پوچھی ۲؎ جب حضور رات میں جاگتے تو دس بار تکبیر دس بار حمد کہتے اور دس بار "سُبْحٰنَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٖ" دس بار "سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْس" کہتے دس بار استغفار پڑھتے اور دس بار کلمہ پھر دس بار کہتے الٰہی  میں دنیا اور قیامت کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۳؎ پھر نماز شروع کرتے۔(ابوداؤد)

۱؎ آپ بڑے پائے کے تابعی ہیں،ہوزن جو قبیلہ ذی کلاع کا بطن ہے اس کی طرف منسوب ہیں۔

۲؎ اس میں سوال کی تعریف ہے کہ رب تعالٰی نے تمہیں اچھی بات پوچھنے کی توفیق دی اس سوال سے صحابہ کرام کا عشق رسول ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اندرونی و بیرونی زندگی معلوم کرکے اس کی نقل کرنا چاہتے تھے۔

۳؎ دنیا کی تنگی میں یہاں کی آفتیں بیماری اور قرض کی مصیبتیں وغیرہ سب داخل ہیں اور قیامت کی تنگی میں وہاں کی دھوپ اور گرمی حساب میں ناکامی وغیرہ شامل ہے یہ کل سترکلمات ہوئے قربان جاؤں اس سونے اور جاگنے پر۔

 

الفصل الثالث

تیسری فصل

1217 -[7]

عَن أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثُمَّ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادٌ أَبُو دَاوُدَ بَعْدَ قَوْلِهِ: «غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ثَلَاثًا وَفِي آخر الحَدِيث: ثمَّ يقْرَأ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو تکبیر کہتے،پھر کہتے الٰہی  تو پاک ہے،تیری حمد ہے،تیرا نام برکت والا ہے،تیری شان اونچی ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱؎ پھر کہتے ا ﷲ بہت ہی بڑا ہےپھر کہتے مردود شیطان سے سننے والے،جاننے والے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے وسوسوں سے اس کی پھونک سے اس کے تکبر سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابوداؤد نے غیرك کے بعد یہ بھی زیادہ کیا کہ پھر تین بار لا الہ الا اﷲ کہتے اور آخر حدیث میں ہے پھر قرأت کرتے۔

 



Total Pages: 519

Go To