Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہ دعا تہجد کے لیئے اٹھتے ہی پڑھنی چاہیئے۔تَعَارَّ عرار سے بنا،بمعنی ہلکی آواز،چونکہ مسلمان جاگتے ہی کچھ ذکر الٰہی  کرتا ہے اس لیئے یہاں یہ لفظ جاگنے کے معنی میں استعمال ہوا۔ملک اور ملکوت کا فرق بار ہا بیان کیا جاچکا ہے،حقیقی ملک اﷲ کا ہے مجازًا بندوں کا بھی مگر ملکوت خدا کے سوا کسی کا نہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد کرے پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہے پھر دعا مانگے،ان شاءاﷲ بالضرور قبول ہوگی خصوصًا تہجد کے وقت کی دعا کہ وہ تیر بہدف ہے،حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس دعا کا نام دعائے درھم الکیس ہے یعنی تھیلی کی نقدی۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آخر رات میں جاگ کر تہجد نہ بھی پڑھے مگر یہ دعا مانگ لے تو ان شاءاﷲ تعالٰی فائدے میں رہے گا،معذور لوگ جو نماز نہیں پڑھ سکتے وہ دعا ضرورپڑھ لیا کریں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1214 -[4]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں جاگتے تو کہتے تیرے سوا کوئی معبود نہیں،الٰہی  تو پاک ہے،تیری حمد ہے اپنے گناہوں کی تجھ سے معافی چاہتا ہوں،تجھ سے تیری رحمت مانگتا ہوں،الٰہی  میرا علم بڑھا دے اور ہدایت کے بعد دل ٹیڑھا نہ کر دے ۱؎ مجھے اپنی طرف سے رحمت دے،بے شک تو ہی دینے والا ہے ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ اگرچہ یہ دونوں چیزیں بھی رحمت میں شامل تھیں لیکن چونکہ بہت شاندار نعمتیں ہیں اس لیئے ان کا علیحدہ ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ علم کی ا نتہا نہیں اور کوئی شخص علم پر قناعت نہ کرے بلکہ ہمیشہ طالب علم رہے اور اپنے کو شیطان سے محفوظ نہ سمجھے دل بدلتے دیر نہیں لگتی یہ دعائیں ہماری تعلیم کے لیئے ہیں۔

۲؎ یہاں رحمت سے مراد ایمان و ہدایت پر ثابت قدمی اور نیک اعمال کی توفیق ملنا ہے۔(مرقات)

1215 -[5]

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْل فَيسْأَل اللَّهُ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو رات گزارے ذکر الٰہی  پر پاک رہ کر ۱؎ پھر رات کو اٹھے اﷲ سے خیر مانگے مگر اﷲ اسے وہ دے دیتا ہے ۲؎(احمد و ابوداؤد)

۱؎ یعنی باوضو سوئے اور اﷲ کا ذکر آیتہ الکرسی وغیرہ پڑھ کر سوئے،بعض صوفیاء سوتے وقت پاس انفاس کرتے ہیں اور اسی حالت میں سوجاتے ہیں اس طرح کہ لَا اِلٰہ پر سانس کھینچتے ہیں اور اِلَّا اﷲ پر نکالتے ہیں یا صَلَّے اﷲُ عَلَیْكَ سے سانس کھینچتے ہیں اور یَارَسُولَ



Total Pages: 519

Go To