$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1206 -[19]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ على يَمِينه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی فجر کی سنتیں پڑھ لے تو داہنی کروٹ پر لیٹ جائے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ یہ حکم استحبابی ہے اور اس کے لیئےہے جو تہجد میں جاگتا رہا ہو تا کہ کچھ آرام کرکے فرض فجر بہ آسانی ادا کرے۔اسی لیئے علماء فرماتے ہیں کہ یہ عمل گھر میں کرے مسجد میں نہ کرے تاکہ لوگوں کو اپنی تہجد پر مطلع نہ کرے مگر خیال رہے کہ اس طرح لیٹے کے نیند یا اونگھ نہ آنے پائے ورنہ وضو جاتا رہے گا اور سنت یہ ہے کہ فجر کی سنتیں و فرض ایک وضو سے پڑھے اگر تہجد نہ پڑھنے والا بھی سنت پر عمل کرنے کی نیت سے اس وقت کچھ لیٹ جائے تو حرج نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل 

1207 -[20] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ قُلْتُ: فَأَيُّ حِينَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُومُ إِذا سمع الصَّارِخ

روایت ہے حضرت مسروق سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پیارا تھا فرمایا ہمیشہ کا ۱؎ میں نے کہا کہ رات میں کس وقت اٹھتے تھے فرمایا جب مرغ کی اذان سنتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اسی لیئے دوسری روایت میں آیا کہ پیارا عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو اگر چہ تھوڑا ہو،ہمیشگی دین ودنیا کی کامیابی کا ذریعہ ہے،استقامت ہزار کرامت سے افضل ہے،اتنا کام شروع کرو جو نبھا سکو۔

۲؎ یہاں مرغ کی پہلی بانگ مراد ہے چوتھائی رات باقی رہے تو ہوتی ہے،دوسری بانگ مراد نہیں وہ صبح صادق پر ہوتی ہے اس وقت تہجد نہیں ہوسکتی۔

1208 -[21]

وَعَن أنس قَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِما إِلَّا رَأَيْنَاهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتے تھے مگر دیکھ لیتے تھے اور سوتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتے تھے مگر دیکھ لیتے تھے ۱؎(نسائی)

۱؎ یعنی آپ نہ تو تمام رات سوتے تھے نہ تمام رات جاگتے تھے کچھ حصہ سوتے کچھ حصہ میں جاگتے لہذا آپ کا ہر حال دیکھا جاتا تھا۔

1209 -[22]

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَأَرْقُبَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ فَقَالَ: (رَبنَا مَا خلقت هَذَا بَاطِلا)حَتَّى بَلَغَ إِلَى (إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ)ثُمَّ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فِرَاشِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءً فَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى قُلْتُ: قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى قُلْتُ قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت حمید ابن عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے سوچا حالانکہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا کہ قسم خدا کی میں نماز کے لیئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکوں گا ۱؎ حتی کہ آپ کا عمل دیکھ لوں تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء یعنی عتمہ پڑھ لی تو کافی رات لیٹے رہے ۲؎ پھر جاگے تو کنارہ آسمان میں نظر فرمائی،پھر کہا مولا تو نے اسے بے کار نہ بنایا حتی کہ لَاْ تُخْلِفُ الْمِیْعَاد تک پہنچ گئے ۳؎ پھر اپنے بستر کی طرف جھکے وہاں سے مسواک نکالی پھر اسے برتن سے جو آپ کے پاس رکھا تھا پانی پیالے میں انڈیلا ۴؎ پھر مسواک کی پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھتے رہے ۵؎حتی کہ میں نے سوچا کہ آپ نے سونے کی بقدر نماز پڑھ لی پھر لیٹ گئے حتی کہ میں نے کہاآپ بقدر نماز سولیئے پھر بیدا ہوئے تو جیسا پہلی بار کیا تھا ویسا ہی کیا اور جو پہلے فرمایا تھا ویسا ہی فرمایا ۶؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے یہ کام تین بار کیا۔(نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html