Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یعنی رب تعالٰی کو سنانا مقصود تھا وہ تو آہستہ آواز بھی سنتا ہے فرماتا ہے:"فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی" پھر جہر کی کیا حاجت۔

 ۴؎ یعنی میں تہجد میں رب تعالٰی کو سنانے کے علاوہ دو کام اور بھی کررہا تھا سوتوں کو جگانا کہ میری آواز سن کر جاگ جاویں اور وہ بھی تہجد پڑھ لیں اور شیطان کو بھگانا کہ جہر کی برکت سے شیطان مجھے وسوسہ نہ دے سکے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اذان کی طرح قرآن کریم کی آواز سے بھی بھاگتا ہے۔یہ حدیث ذکر بالجہر کرنے والے صوفیاء کی بھی دلیل ہے اور ذکر خفی والوں کی بھی دونوں اﷲ کے پیارے ہیں نیت سب کی بخیر ہے۔

 ۵؎ یہ جملہ اس کی شرح ہے "خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا" یعنی نہ اتنی بلند قرأت کرو کہ دوسروں کو تکلیف ہو نہ اتنی آہستہ کہ بالکل پتہ ہی نہ لگے درمیانی روش دونوں صاحب اختیار فرماؤ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَابْتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا"اے صدیق خالق کو سنانے کے ساتھ مخلوق کو اپنی قر­أت سے فائدہ پہنچاؤ اور اے عمر مخلوق پر کچھ نرمی کرتے ہوئے اپنے نفس پر بھی زیادہ مشقت نہ ڈالو سبحان اﷲ! کیسی پیاری تعلیم ہے۔

1205 -[18]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ: (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإنَّك أَنْت الْعَزِيز الْحَكِيم)رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا حتٰی کہ ایک آیت پر صبح ہوگئی ۱؎ یہ آیت تھی اگر تو اسے عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے ۲؎(نسائی۔ابن ماجہ)

۱؎ یعنی جب نماز تہجد کے لیئے جاگے اور سورۂ فاتحہ سے فارغ ہو کر یہ رکوع پڑھا تو اس آیت کو سینکڑوں بار پڑھا حتی کہ وقت صبح بالکل ہی قریب آگیا کہ سلام پھیریں اور صبح ہوجائے لہذاس اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ تمام رات جاگنا بہتر نہیں اور نہ یہ کہ طلوع فجر پر نفل منع ہیں۔

۲؎ یہ سورۂ مائدہ کی آیت ہے قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام بارگاہ الٰہی  میں اپنی قوم کے متعلق یہ عرض کریں گے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آیت بار بار پڑھنا اپنی امت کی شفاعت کے لیئے ہے یعنی عین نماز و مناجات میں ہی امت کی شفاعت بھی فرمارہے ہیں۔ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ نماز میں آیت یا سورۃ کی تکرار بلا کراہت جائز ہے حتی کہ سورۂ فاتحہ کی تکرار بھی جائز ہے۔احناف کے ہاں سورۂ فاتحہ کی تکرار ممنوع ہے اگر اس کا اکثر حصہ مکرر کیا تو سجدۂ سہو واجب،مگر شیخ عبدالحق نے اشعہ میں فرمایا کہ میں نے شیخ سے پوچھا کہ اگر "اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡم" پر لطف آجاوے اور اسے مکرر پڑھے تو کیا حکم ہے فرمایا فرائض میں نہ کرے نوافل میں کرسکتے ہو۔

1206 -[19]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ على يَمِينه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی فجر کی سنتیں پڑھ لے تو داہنی کروٹ پر لیٹ جائے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To