Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یعنی تہجد میں کبھی بلند آواز سے قر­أت کرتے تھے اور کبھی آہستہ آواز سے یعنی اگر تہائی میں تہجد پڑھتے تو بلند آواز سے پڑھتے اور اگر وہاں سونے والے ہوتے تو آہستہ قر­أت فرماتے تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو۔

1203 -[16]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قر­أت اس قدر تھی کہ اسے صحن والے سن لیتے جب کہ آپ کوٹھڑی میں ہوتے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ مرقاۃ ولمعات وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں حجرے سے مراد گھر کا صحن ہے اور بیت سے مراد کوٹھڑی یعنی آپ کی تلاوت درمیانی تھی یہ عمومی حالات کا ذکر ہے ورنہ کبھی اس سے زیادہ آواز بھی ہوتی تھی اور کبھی کم بھی۔

1204 -[17]

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ» قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا» وَقَالَ لِعُمَرَ: «اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا».رَوَاهُ أَبُودَاوُد وروى التِّرْمِذِيّ نَحوه

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات تشریف لے گئے ۱؎ ابوبکر صدیق تک پہنچے وہ نماز پڑھ رہے تھے بہت پست آواز سے اور حضرت عمر پر گزرے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے بلند آواز سے راوی نے فرمایا کہ جب یہ دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو فرمایا ۲؎ اے ابوبکر ہم تم پر گزرے تو آواز پست کیے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے عرض کیا یارسول اﷲ جس سے مناجات کررہا تھا اسے سنالیا ۳؎ حضرت عمر سے فرمایا کہ ہم تم پر گزرے تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے عرض کیا یارسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سوتوں کو جگاتا تھا شیطان کو بھگاتا تھا ۴؎ فرمایا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اے ابوبکر تم اپنی آواز کچھ بلند کرو اور حضرت عمر سے فرمایا کہ تم اپنی آواز کچھ پست کرو ۵؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی۔

۱؎ اپنے صحابہ کے شب کے حالات ملاحظہ فرمانے کے لیئے۔معلوم ہوا کہ سلطان کا رات میں گشت لگانا تاکہ رعایا کے حالات معلوم کرے سنت ہے۔اسی طرح استاد و شیخ کا اپنے شاگردوں مریدوں کے حالات کی تفتیش کرنا مسنون ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اور حق یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گشت اب بھی جاری ہے اپنی امت کے حالات ملاحظہ فرمانے کے لیئے گشت فرماتے ہیں۔صوفیا نے بعض دفعہ مشاہدہ کیا ہے اور اس کا ذکر ہم نے اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں کیا ہے۔

۲؎ یعنی ابوبکر صدیق تہجد میں قر­أت نہایت آہستہ کررہے تھے اور حضرت فاروق خوب اونچی۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ صدیق پر طریقت کا غلبہ ہے اور حضرت فاروق اعظم پر شریعت کاغلبہ۔

 



Total Pages: 519

Go To