Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ بقرہ سے مراد پوری سورۂ بقرہ ہے یعنی ایک رکعت میں پوری سورۂ بقرہ پڑھی،پھر رکوع بھی اس قدر دراز فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ شبینہ کرنا جائز ہے کیونکہ شبینہ میں ایک رکعت میں ڈیڑھ پارہ آتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں ڈھائی پارہ پڑھے ہیں۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ دراز قیام زیادتی سجود سے افضل ہے،یہ ہی امام اعظم کا فرمان ہے۔یہ حدیث ا س حدیث کی تفسیر ہے جس میں ارشاد ہوا کہ جو تنہا نماز پڑھے وہ جتنی چاہے دراز کرے۔

۵؎ یعنی دو سجدوں کے درمیان یہ کلمہ بار بار اس قدر پڑھا کہ آپ کا یہ جلسہ سجدے کے قریب دراز ہوگیا،یہ دعا تعلیم امت کے لیئے ہے۔

۶؎ یعنی شعبہ راوی کو اس میں شک ہوا کہ چوتھی رکعت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ مائدہ پڑھی یا انعام،اگلی رکعتوں میں تردد نہیں کہ پہلی میں بقرہ دوسری میں آل عمران تیسری میں نساء پڑھی۔

1201 -[14]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ من المقنطرين» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو بن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو رات کھڑے ہو کر دس آیتیں پڑھے ۱؎ تو وہ غافلوں سے نہ لکھا جائے گا اور جو کھڑے ہو کر سو آیتیں پڑھے وہ مطیعون میں سے لکھا جائے گا ۲؎ اور جو کھڑے ہو کر ہزار آیتیں پڑھے تو وہ بہت ثواب والوں میں لکھا جائے گا ۳؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی جو تہجد کی ایک یا دو رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس آیات تلاوت کرے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ اس کا نام غافلوں کے رجسٹر میں نہ آئے گا ان شاءاﷲ ذاکرین میں ہوگا۔

۲؎ یعنی جو تہجد کی ایک رکعت یا دو رکعت میں یا پوری تہجد میں سو آیات پڑھ لیا کرے تو اس کا شمار ان نیک بختوں کے زمرے میں ہوگا جنہوں نے ساری زندگی اطاعت الہی میں گزاری یا اﷲ تعالٰی اس عبادت کی برکت سے اسے اپنی فرمانبرداری و اطاعت گزاری کی توفیق دے گا،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس میں تہجد کی بھی قید نہیں جو روزانہ نماز وں میں یا خارج نماز سو آیات تلاوت کرلیا کرے اس کا یہ درجہ ہے مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں ا س لیئے مولف یہ حدیث تہجد کے باب میں لائے۔

۳؎ مقنطرین قنطار سے بنا،بمعنی بہت مال۔بعض نے فرمایا کہ بارہ ہزار اشرفیاں قنطار ہیں،بعض نے فرمایا کہ بیل کی کھال بھر سونا بعض کے نزدیک ستر ہزار دینار۔حق یہ ہے کہ اس کی حد مقرر نہیں یہاں بے شمار ثواب والے مراد ہیں،حضرت معاذ ابن جبل فرماتے ہیں کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں۔ جن کا ایک اوقیہ زمین و آسمان سے بڑھ کر ہے۔(ابن حبان و مرقاۃ)

1202 -[15]

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت یوں تھی کہ کبھی بلند پڑھتے کبھی پست ۱؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To