Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی ایک ایک رکعت میں دو  دو سورتیں جو مقدا رمیں تقریبًا یکساں ہوتی تھیں پڑھا کرتے تھے دو رکعت تحیۃ الوضو آٹھ رکعت تہجد اور ہر رکعت میں دو سورتیں اس طرح دس رکعتوں میں بیس سورتیں ہوگئیں۔

۲؎ ترتیب ان کی اس طرح تھی کہ ایک رکعت میں سورۂ رَحْمَان اور اَلنَّجْم دوسری میں اِقْتَرَبَتْ اور اَلْحَاقَّہ تیسری میں طُوْر اور ذَارِیَاتْ چوتھی میں اِذَاوَقَعَتِ اور نُوْن پانچویں میں سَأَلَ سَائِلٌ اور نَازِعَاتْ چھٹی میں وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ اور عَبَسَ ساتویں میں مُدَّثِّرْ اور مُزَمِّلْ آٹھویں میں ھَلْ اَتٰی اور لَااُقْسِمُ نویں میں عَمَّ یَتَسَاءَلُوْنَ اور مُرْسَلَاتْ،دسویں میں دُخَانْ اور اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ابن مسعود کی یہی ترتیب تھی۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ حضرت ابن مسعود اور ابی ابن کعب وغیرہ صحابہ نے قرآن کی سورتیں نزول کے اعتبار سے ترتیب دی تھیں انہیں یہ پتہ نہ تھا کہ آیات قرآنی کی طرح ترتیب بھی آسمانی ہی ہے جو حضور حکمًا خود دے گئے ہیں اس لیئے وہ ترتیبیں ختم ہوگئیں اور موجودہ ترتیب جس پر سارے صحابہ اور امت کا اجماع ہوا ہے جو کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی تاقیامت باقی رہی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1200 -[13]

عَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَكَانَ يَقُولُ: «الله أكبر» ثَلَاثًا «ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ يَقُولُ: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ وَكَانَ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي» فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَرَأَ فِيهِنَّ (الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ)شَكَّ شُعْبَة)رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھا آپ تین بار فرماتے تھے اﷲ اکبر ملکوت جبروت کبریائی و عظمت والا ۱؎ پھر نماز شروع کی ۲؎ سورۂ بقرہ پڑھی،پھر رکوع کیا تو آپ کا رکوع آپ کے قیام کی مثل تھا ۳؎ اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم کہتے رہے پھر رکوع سے سر اٹھایا آپ کا قومہ رکوع کی مثل تھا فرماتے تھے لربی الحمد پھر سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ قومہ کی مثل تھا ۴؎ اپنے سجدہ میں فرماتے تھے سبحان اﷲ ربی الاعلی پھر سجدے سے سر اٹھایا اور آپ دو سجدوں کے بیچ سجدے کی مثل ہی بیٹھتے تھے اور کہتے تھے مولیٰ مجھے بخش دے ۵؎ چار رکعتیں پڑھیں جن میں بقرہ،آل عمران،نساء مائدہ یا انعام پڑھیں،شک شعبہ کو ہے ۶؎(ابوداؤد)

۱؎ ملکوت مُلک کا مبالغہ ہے اور جبروت جبر کا بمعنی غلبہ۔اصطلاح میں ظاہری ملک کو ملک کہتے ہیں،باطنی کو ملکوت یعنی باطنی ملک اور پورے غلبہ والا۔علماء فرماتے ہیں کہ ملکوت،جبروت،کبریا صرف رب تعالٰی کے لیئے استعمال ہوسکتے ہیں کسی بندے کے لیئے ان کا استعمال جائز نہیں جیسے رحمان وغیرہ۔(ا زمرقاۃ)

۲؎ یعنی تکبیر تحریمہ سے پہلے وہ کلمات کہے پھر تکبیر تحریمہ کہی یا تکبیر کے بعد یہ کہے پھر ثنا شروع کی پہلا احتمال قوی ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To