Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۶؎ کیونکہ مقتدی اگر ایک ہو تو امام کے برابر داہنی طرف کھڑا ہو۔خیال رہے کہ اس گھمانے کی شرح پہلے گزرچکی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ سے آپ کو اپنے پیچھے سے گھمایا اس طرح کہ آپ کے اس گھومنے میں تین قدم متواتر نہ پڑے لہذا اس پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ نماز میں گھمانا اور گھومنا عمل کثیر ہے اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

۷؎ یہ خراٹے کسی عارضہ یا بیماری کی وجہ سے نہ تھے بلکہ عادت کریمہ تھی خراٹے نیند کامل ہونے کی علامت ہیں۔خیال رہے کہ یہ خراٹے ایسے سخت نہ تھے کہ دوسروں کو تکلیف ہو بلکہ بہت ہلکے تھے اسی لیئے نفخ فرمایا یعنی پھونکنا یا سانس بلند لیا۔

۸؎ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند وضو نہیں توڑتی۔وجہ ظاہر ہے کہ نیند وضو توڑتی ہے غفلت کی وجہ سے کہ خبر نہیں رہتی ہوا خارج ہوئی یا نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند غفلت پیدا ہی نہیں کرتی پھر وضو توڑنے کا سوال ہی نہیں،یہ وضو نہ توڑنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے جیسے شہید کی موت غسل نہیں توڑتی یہ شہید کی خصوصیت ہے۔

 ۹؎ یہ دعا یا تو سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے پڑھی یا گھر سے مسجد تشریف لے جاتے ہوئے یا نماز تہجد سے پہلے شارحین نے تینوں احتمال لیئے۔

۱۰؎ اسے دعائے تحویل بھی کہتے ہیں اور دعائے نور بھی۔محدثین نے اس دعا کے بڑے فضائل بیان کیے ہیں حتی کہ شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ جو شخص ہمیشہ تہجد میں یہ دعا پڑھا کرے اسے بہت برکتیں اور نورانیت نصیب ہوگی۔(عوارف)خیال رہے کہ یہ دعا امت کی تعلیم کے لیئے ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود نور ہیں ایسے نور کہ جس پر نگاہ کرم فرمادیں اسے نورانی بنادیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قَدْ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللہِ نُوۡرٌ" اور فرماتا ہے:"وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا"یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نورانی بنانے والا سورج بنا کر رب نے بھیجا ۔جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت کا انکار کرتے ہیں وہ اس دعا میں غور کریں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ضرور قبول ہوئی لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی نور ہیں اور ہر چھ طرف سے نور میں گھرے ہوئے یعنی نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٌ ہیں اگر یہ دعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیئے مانگی ہے تو زیادتی نور مراد ہوگی،بعض روایت میں "وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا" ہے اور یہاں "وَاجْعَلْ لِیْ نُوْرًا" آیا دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی مجھے نور بنادے۔

۱۱؎ یہ ساری دعا کی شرح ہے یعنی الٰہی  تو نے مجھے اپنے کرم سے نور تو بنایا ہی ہے میرے نور میں اضافہ اور زیادتی فرمادے جیسے رب نے ارشاد فرمایا:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"اے محبوب عرض کرو کہ میرا مولیٰ میرے علم بڑھا دے۔خیال رہے کہ نور میں زیادتی کمی مقدار کی نہیں ہوتی کیفیت کی ہوتی ہے،چراغ کے نور سے گیس و بجلی کا نور زیادہ اور ان کے نور سے سورج کا نور کہیں زیادہ ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت سورج سے کہیں زیادہ کہ سورج صرف سامنے والے کے ظاہر کو چمکاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو غاروں پہاڑوں میں رہنے والوں کے دل و جگر کو بھی جگمگادیتے ہیں۔کونسی وہ جگہ ہے جہاں اس آفتاب نبوت کا نور نہیں پہنچتا صلی اللہ علیہ وسلم۔ خیال رہے کہ پاور ہاؤس سے پاور یکساں آتی ہے مگر اس سے نو رلینے والے قمقمے اپنی طاقت کی بقدر نور لیتے ہیں،سو واٹ کا قمقمہ زیادہ نور لیتا ہے،دس واٹ کا کم،ایسے ہی صحابہ،تابعین،اولیاء،علماء نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف نوعیت کے نور لیئے یہ اختلاف ان کے لینے میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دین یکساں ہے۔

 1196 -[9]

وَعَنْهُ: أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُول: (إِن فِي خلق السَّمَاوَات وَالْأَرْض...)حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو  آپ بیدار ہوئے مسواک کی اور وضو کیا ۱؎ حالانکہ آپ کہتے تھے بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں یہاں تک کہ سورہ ختم کی ۲؎ پھر کھڑے ہوئے دور کعتیں پڑھیں جن میں قیام رکوع سجدہ دراز کیا پھر فارغ ہوئے ۳؎ تو سوگئے حتی کہ خراٹے لیئے پھر یہ تین بار کیاچھ رکعتیں پڑھیں ۴؎ ہر بار مسواک و وضو کرتے تھے اور یہ آیتیں پڑھتے تھے ۵؎ پھر تین رکعت وتر پڑھیں ۶؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To