Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

اَحَدٌبعض لوگوں نے یہ معنے کیئے کہ تہجد آٹھ رکعتیں پڑھیں اور وتر تین رکعتیں اگر اس طرح کہ وتر کی دو رکعت ایک سلام سے اور ایک رکعت ایک سلام سے مگر یہ معنی ان احادیث کے خلاف ہیں جن میں وارد ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےایک سلام سے تین رکعت و تر پڑھے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقص نماز ایک رکعت والی نماز سے منع فرمایا،ارشاد فرمایاکہ مغرب دن کے وتر ہیں اور وتررات کے وتر،لہذا اس حدیث کے معنی وہی درست ہیں جو احناف نے کیئے وہ یہ کہ دو دو رکعت پر سلا م تو تہجد میں پھیرا اور وتر اس طرح پڑھے کہ دو رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملالی جس سے یہ ساری نماز وتر یعنی طاق ہوگئی یعنی بِرَکْعَۃٍ کی ب تعدیہ کی نہیں بلکہ استعانت کی ہے اب یہ کسی حدیث سے متعارض نہیں۔

۳؎ یعنی نماز تہجد کا ہر سجدہ یا وتر کا ہر سجدہ یا تہجد سے فارغ ہو کر شکر کا ایک سجدہ اتنا دراز ادا کرتے کہ تم میں سے کوئی آدمی اتنی دیر میں پچاس آیات تلاوت کرے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ تہجد کے بعد اس کا شکریہ ادا کرنا کہ رب نے اس نماز کی توفیق بخشی بہتر ہے۔

۴؎ جب خوب روشنی ہوجاتی تو سنت فجر ادا فرماتے۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجیالے میں پڑھنا سنت ہے اس طرح کہ سنتیں بھی بلکہ اذان فجر بھی اجیالے میں ہو ورنہ ام المؤمنین تَبَیَّنَ نہ فرماتیں۔

۵؎ یعنی حضرت بلال جماعت کے وقت در دولت پر حاضر ہو کر عرض کرتے کہ کیا تکبیر کہوں آپ اجازت دیتے تب وہ صف میں پہنچ کر تکبیر شروع کرتے جب "حی علی الفلاح" پر پہنچتے تو آپ دروازہ شریف سے مسجد میں داخل ہوتے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سنت فجر سے بعد داہنی کروٹ پر کچھ دیر لیٹ جانا سنت ہے بشرطیکہ نیند نہ آجائے ورنہ وضو جاتا رہے گا۔دوسرے یہ کہ سلطان اسلام عالم دین کو اذان کے علاوہ بھی نماز کی اطلاع دینا جائز ہے۔

1189 -[2]

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مستيقظة حَدثنِي وَإِلَّا اضْطجع. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اگر میں بیدار ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ حدیث بتارہی ہے کہ سنت و فرض کے درمیان گفتگو کرنے سے نہ نماز جاتی رہتی ہے نہ ثواب نماز،ہاں بہتر یہ ہے کہ دنیاوی گفتگو نہ کرے غالبًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ صدیقہ سے کلام فرمانا دینی امور کے متعلق ہوگا اور ام المؤمنین کا اس وقت سوتا رہنا یا نماز نہ پڑھنے کے زمانہ میں ہوگا یا آپ قدرے دیر سے اٹھتی ہوں گی کیونکہ آپ پر جماعت کی پابندی تو تھی نہیں۔

1190 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شقَّه الْأَيْمن "

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ سنت و فرض فجر کے درمیان قدرے لیٹنا خصوصًا جب کہ تہجد کی وجہ سے تھکن ہوگئی ہو بہت بہتر ہے اور داہنی کروٹ پر لیٹنا سنت ہے شب کو بھی اولًا داہنی کروٹ پر لیٹے قبلہ رو ہو کر پھر بائیں پھر اس ترتیب میں بہت حکمتیں ہیں۔

1191 -[4]

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا الْوتروركعتا الْفجْر.رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ۱۳ رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی ہیں اور فجر کی سنتیں بھی ۱؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To