Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یہاں کلام سے مراد دنیاوی بات چیت ہے نہ کہ دعا و ذکر وغیرہ۔علیین ساتویں آسمان سے اوپر ایک مقام ہے یا خود ساتویں آسمان کا نام ہے یا فرشتوں کے رجسٹرو دفتر کا نام ہے جس میں مقبولوں کے مقبول اعمال لکھے جاتے ہیں یا اس سے مراد رب تعالٰی کی بارگاہ کا قرب ہے۔مطلب یہ ہے کہ مغرب کے بعد بغیر دنیاوی بات چیت کیئے یہ نوافل پڑھ لینا بہت افضل ہیں ان کی برکت سے یہ پوری نماز علیین تک پہنچائی جاتی ہے۔بعض لوگ اس حدیث کی وجہ سے نماز مغرب کے بعد دعا نہیں مانگتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دعا بھی کلام ہے مگر یہ غلط ہے ایسی جگہ کلام سے مراد دنیا وی بات چیت ہوتی ہے۔

1185 -[27]

وَعَن حُذَيْفَة نَحْوَهُ وَزَادَ فَكَانَ يَقُولُ: «عَجِّلُوا الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَإِنَّهُمَا تُرْفَعَانِ مَعَ الْمَكْتُوبَةِ» رَوَاهُمَا رَزِينٌ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الزِّيَادَةَ عَنْهُ نَحْوَهَا فِي شُعَبِ الْإِيمَان

اور حضرت حذیفہ سے اسی کی مثل ہے اور زیادہ کیا کہ کہتے تھے کہ مغرب کےبعد دو رکعتیں جلدی پڑھو کیونکہ وہ دونوں فرضوں کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں ۱؎ ان دونوں حدیثوں کو رزین نے روایت کیا اور بیہقی نے انہی سے زیادتی کو شعب الایمان میں اس کی مثل۔

۱؎ یہاںسنتوں سے مراد سنت مغرب ہی ہے نہ کہ نماز اوّابین جیسا کہ مضمون سے ظاہر ہے۔خیال رہے کہ حضرت مکحول کی یہ روایت مرسل ہے اور احناف کے نزدیک مرسل مقبول ہے،شوافع کے ہاں مرسل حدیث ضعیف کے حکم میں ہے کہ فضائل اعمال میں مقبول ہے لہذا یہ حدیث احناف وشوافع کے ہاں قبول اور لائق عمل ہے۔

1186 -[28]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: إِنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تكلم أوتخرج فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لَا نُوصِلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى نتكلم أَونخرج. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمرو بن عطاء سے فرماتے ہیں کہ نافع ابن جبیر نے انہیں حضرت سائب کے پاس اس چیز کے پوچھنے کے لیئے بھیجا جو امیر معاویہ نے ان سے نماز میں دیکھی ہو ۱؎ انہوں  نے فرمایا ہاں میں نے امیر معاویہ کے ساتھ مقصورے میں جمعہ پڑھا ۲؎ جب امام نے سلام پھیرا تو میں اسی جگہ کھڑا ہوگیا۔۳؎ جب وہ چلا گیا تو مجھے بلایا اور فرمایا کہ یہ کام آئندہ نہ کرنا جب تم جمعہ پڑھو تو اسے اور نماز سے نہ ملاؤ یہاں تک کہ کوئی بات کرلو یا ہٹ جاؤ۴؎کیونکہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کہ بغیر کلام یا بغیر ہٹے نماز کو نماز سے نہ ملائیں ۵؎(مسلم)

۱؎ یعنی نافع ابن جبیر ابن مطعم نے عمرو ابن عطا کو حضرت سائب کے پاس یہ پوچھنے بھیجا کہ کیا تمہاری کوئی نماز یا نماز کا کوئی عمل حضرت معاویہ نے دیکھا ہے اور اس کی تائید یا تردید کی ہے چونکہ امیر معاویہ فقیہ صحابہ سے ہیں اس لیئے ان کی تائید یا تردید حجت شرعیہ ہے۔خیال رہے کہ عمرو ابن عطا اور جبیر ابن مطعم دونوں تابعی ہیں اور حضرت سائب اور امیر معاویہ دونوں صحابی مگر حضرت معاویہ فقیہ صحابی ہیں۔

۲؎ مقصورہ جامع مسجد کا وہ خاص مقام ہے جہاں مکبریا سلطان اسلام کھڑے ہو کر جماعت سے نماز ادا کریں،چونکہ یہ جگہ ان لوگوں پر مقصور و محدود ہوتی ہے اس لیئے اسے مقصورہ کہا جاتا ہے۔خیال رہے کہ جب سے حضرت عمر فاروق کو نماز میں شہید کیا گیا تب سے بادشاہوں



Total Pages: 519

Go To