Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

786 -[15] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلِيَ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: وَ الْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے سوئی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے کی جانب ہوتے  ۱؎  جب آپ سجدہ فرماتے تو مجھے دبا دیتے میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی   ؎  اور جب کھڑے ہوتے تو میں پاؤں پھیلا دیتی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہ تھے۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  آپ قبلہ کی طرف پاؤں نہیں پھیلاتی تھیں کہ وہ منع ہے بلکہ آپ کے پاؤں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے قبلہ کی طرف ہوتے تھے۔ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز میں تھوڑا عمل جائز ہے ۔دوسرے یہ کہ عورت کو چھونا وضو نہیں توڑتا اگرچہ بغیر آڑ کے ہو کیونکہ یہاں آڑ کی قید نہیں آئی۔ تیسرے یہ کہ عورت کا نمازی کے آگے ہونانماز خراب نہیں کرتا،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔

۲؎  یہ بالکل ابتدائی حالت کا ذکر ہے جب کہ ضرورت کے وقت لکڑیاں جلا کر روشنی کی جاتی تھی بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں چراغ رائج ہوگئے تھے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے  سے ایک چوہا چراغ کی جلتی بتی کھینچ کر لے گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ چراغ گل کرکے سویا کروکیونکہ چوہا اس کے ذریعے گھرمیں آگ لگادیتا ہے لہذا یہ حدیث چراغ والی احادیث کے خلاف نہیں۔

 ؎ یعنی جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کا قیام و رکوع فرماتے ہیں اطمینان سے پاؤں پھیلائے سوئی رہتی اور جب حضور کے سجدہ کا وقت ہوتا تو مجھے دبا کر اشارہ کردیتے جب میں پاؤں سمیٹتی تب سجدہ کے لیے جگہ بنتی اور آپ سجدہ کرتے۔

787 -[16]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخُطْوَةِ الَّتِي خَطَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اسے اپنے بھائی کے سامنے گزرنے میں نماز کا راستہ کاٹتے ہوئے کیا  گناہ ہے تو سو سال ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس ایک قدم ڈالنے سے بہتر ہوتا ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎  یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے جہاں صرف چالیس کا ذکر تھا سال یا مہینے کا ذکر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ وہاں بھی سال ہی مراد تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے بیٹھا رہنا یا آکر بیٹھ جانا یا بیٹھے سے اٹھ جانا سیدھا سامنے چلا جانا منع نہیں بلکہ سامنے کی سمت کاٹ کر گزرنا منع ہے،یعنی ہمارے ملک میں جنوبًا شمالًا جانا جیسا کہ معترضًا سے معلوم ہوا۔البتہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے آکر بیٹھ جائے پھر کچھ ٹھہرکر دوسری جانب اٹھ جائے تو مکروہ ہے بلکہ ادھر ہی کو جائے جدھر سے آیا تھا۔حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے انسان کو چاہیے کہ نمازی کے آگے سے ہرگز نہ گزرے۔

788 -[17]

وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

روایت ہے حضرت کعب احبار سے فرماتے ہیں اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اس کا زمین میں دھنس جانا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا اور ایک روایت میں ہے کہ آسان ہوتا  ۱؎(مالک)

 



Total Pages: 519

Go To