Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ آپ سلیمان ابن یسار ہیں،ام المؤمنین  میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، بڑے فقیہ،محدث ،عابد،و تارک الدنیا تابعی ہیں،آپ کے بھائی عطا ابن یسار ہیں،۷۳ عمر ہوئی،  ۱۰۷ھ؁ میں وفات پائی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎  بلاط لغت میں وہ پتھر ہے جس کا مکانوں میں فرش لگایا جاتا ہے یہاں وہ جگہ مراد ہے جو حضرت عمر نے مسجد نبوی شریف کے متصل چبوترے کی شکل میں بنائی تھی تاکہ اگر کسی کو کوئی دنیاوی بات کرنا ہو تو مسجد سے نکل کر وہاں جا کر کرے۔

۳؎  یعنی مسجد نبوی میں جماعت اولیٰ ہورہی ہے اورآپ یہاں بیٹھے ہیں  کیا وجہ ہے۔خیال رہے کہ آپ مسجد سے علیحدہ بیٹھے تھے لہذا جائز تھا۔

۴؎ حق یہ ہے کہ یہ نماز فجر یا عصر یا مغرب تھی جس کے بعد نفل درست نہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں یہ نماز پڑھ چکا ہوں اور اس کے بعد نفل جائز نہیں تو لامحالہ دوبارہ فرض ہی کی نیت سے پڑھوں اور ایک دن میں ایک فرض دوبار ہو نہیں سکتے اسکے اور مطلب بھی بیان کیئے گئے مگر یہ بہتر ہے اس صورت میں یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف بھی نہیں اور اس پر کچھ شبہ بھی نہیں اگلی حدیث اس کی شرح ہے۔اسی لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ شہر میں بعد نماز جمعہ احتیاطی نفل کی نیت سے نفل کے طریقہ پر پڑھے کیونکہ فرض تو پڑھ چکا اور گاؤں میں جمعہ نہ پڑھے کہ وہاں جمعہ ہوتا نہیں اگر پڑھا تو نفل ہوگا اور نفل جماعت و خطبہ و اذان سے پڑھنا، پھر فرض ظہر اکیلے پڑھنا بہت برا ہے لیکن اگر کسی نے پڑھ لیا تو بہت بعد میں ظہر فرض کی نیت سے پڑھے،ان مسائل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

1158 -[9]

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يَعُدْ لَهما. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو مغرب یا فجر پڑھ لے پھر انہیں امام کے ساتھ پالے تو دوبارہ نہ پڑھے ۱؎ (مالک)

۱؎ یعنی فجر و مغرب پڑھ چکا ہو تو امام کے ساتھ دوبارہ نہ پڑھے کیونکہ فجر کے نفل ممنوع اور تین رکعت نفل نہیں ہوتے لہذا اسے دوبارہ فرض ہی پڑھنے پڑیں گے اور فرض دوبارہ ایک دن میں ہوتے نہیں لہذا نہ پڑھے۔ اس حدیث نے گزشتہ تمام ان احادیث کی شرح کردی جہاں امام کے ساتھ دوبارہ پڑھ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ وہاں صرف ظہر و عشاء مراد ہیں۔خیال رہے کہ یہ حدیث موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات قیاس سے نہیں کی جاسکتی۔


 



Total Pages: 519

Go To