$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

783 -[12]

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يصمد لَهُ صمدا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت مقداد بن اسود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کو لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے نہ دیکھا مگر آپ اسے اپنی داہنی یا بائیں بھوؤں کے سامنے رکھتے تھے  ۱؎  اور بالکل اس کے سامنے نہ ہوتے تھے ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ سترہ نمازی کے سامنے نہ ہو بلکہ قدرے دائیں بائیں ہٹا ہو اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲؎  یعنی سترے کو ناک کے مقابل نہ رکھتے تاکہ بت پرستوں کی مشابہت نہ ہوجائے کیونکہ وہ پوجا کے وقت بت بالکل سامنے رکھتے ہیں اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن چونکہ فضائل کی ہے لہذا قبول ہے ۔نسائی میں ہے کہ سترہ بائیں پلک پر رکھا جائے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ داہنے سے بائیں پلک پر رکھنا افضل ہے ،سترہ چونکہ شیطان کو دفع کرنے کے لیے ہے اور شیطان بائیں سمت ہی سے آتا ہے اسی لیے اگر نماز میں تھوکنا پڑ جائے تو بائیں طرف تھوکے۔

784 -[13]

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تعبثان بَين يَدَيْهِ فَمَا بالى ذَلِك. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللنسائي نَحوه

روایت ہے حضرت فضل ا بن عباس سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے ہم اپنے جنگل میں تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عباس تھے آپ نے جنگل میں نماز پڑھی آپ کے سامنے سترہ نہ تھا ہماری ایک گدھی اور کتیا آپ کے سامنے کھیلتے رہے  ۱؎  آپ نے اس کی پرواہ نہ کی(ابوداؤد)نسائی میں اس کی مثل ہے۔

۱؎  چونکہ اس جنگل میں کسی کے گزرنے کا احتمال نہ تھا اس لیے سترہ نہ گاڑا گیا یہ کتیا اور گدھی زیادہ فاصلے پر تھے اس لیے اس کی پرواہ  نہ کی گئی۔چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں کہ جنگل میں نمازی کے آگے اتنی دور پرگزرنا جائز ہے کہ جب نمازی سجدہ گاہ پرنظر رکھے تو وہاں کی چیزمحسوس نہ ہو لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔

785 -[14]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْء وادرؤوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ۱؎  اور جہاں تک ہوسکے دفع کرو اس لیے کہ وہ گزرنے والا شیطان ہے۔(ابوداؤد)

۱؎ یعنی نمازی کے آگے سےکسی چیز کاگزر جانا نماز کو باطل نہیں کرتا لہذا یہ حدیث توڑنے کی روایت کے خلاف نہیں کہ وہاں حضورقلبی کا توڑنا مراد ہے نہ کہ اصل نماز کا اور یہاں اصل نماز توڑنے کی نفی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

786 -[15] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلِيَ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: وَ الْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے سوئی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے کی جانب ہوتے  ۱؎  جب آپ سجدہ فرماتے تو مجھے دبا دیتے میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی   ؎  اور جب کھڑے ہوتے تو میں پاؤں پھیلا دیتی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہ تھے۲؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html