Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ یعنی جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں علیحدہ بیٹھا رہنا کفار کی علامت ہے تم نے ایسے کیوں کیا،اس سوال و جواب سے اظہار ناپسندیدگی مقصود ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  ہر شخص کے دلی حالات سے خبردار ہیں۔فرماتے ہیں احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں،جسے پتھروں کے دلوں کی خبر ہو اسے انسانوں کے دل کی خبر کیسے نہ ہوگی۔

۳؎ یعنی ترک جماعت کا ارادہ نہ تھا صرف غلط فہمی ہوگئی اس لیئے معذور ہوں۔

۴؎ یعنی جو اکیلے پڑھ آئے ہو وہ تو فرض ہوگی اور جو جماعت سے پڑھی وہ نفل ہوگی مگر یہ حکم نماز جمعہ کے لیئے نہیں کیونکہ اگر جمعہ کے دن کوئی اپنے گھر میں ظہر پڑھ لے پھر جمعہ میں آجائے تو اس کی ظہر باطل ہے اب نماز جمعہ فرض۔

1156 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ قَالَ لَهُ: نَعَمْ قَالَ الرجل: أَيَّتهمَا أجعَل صَلَاتي؟ قَالَ عُمَرَ: وَذَلِكَ إِلَيْكَ؟ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

ر وایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ کسی نے ان سے پوچھا عرض کیا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں پھر امام کے ساتھ مسجد میں نماز پاتا ہوں کیا اس کے ساتھ بھی پڑھوں فرمایا ہاں اس نے کہا ان دونوں میں سے اپنی نماز کسے سمجھوں ۱؎ حضرت ابن عمر نے فرمایا یہ تمہارا کام نہیں یہ تو اﷲ عزوجل کا کام ہے  ان میں سے جسے چاہے نماز بنائے ۲؎ (مالک)

۱؎ یعنی اس صورت میں میری فرض نماز کون سی ہوئی ؟ پہلی جو اکیلے پڑھی یا دوسری جو جماعت سے پڑھی۔ غالبًا یہ گفتگو اس صورت میں ہے کہ نمازی نے دوسری نماز میں نفل کی نیت نہ کی بلکہ مطلقًا نماز کی یا غلطی سے اسے بھی فرض ہی سمجھ کر پڑھا۔خیال رہے کہ بلا سبب فرض دوبارہ پڑھنا ممنوع ہے اسے اس ممانعت کی خبر نہ تھی اس لیئے یہ سوال کیا۔

۲؎ بعض امام فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دونوں نمازوں میں سے ایک فرض ہے ایک نفل،یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی فرض ہے کون سی نفل ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،باقی آئمہ کے ہاں پہلی نماز فرض ہے اور دوسری نفل۔اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ کیا خبر کون سی نماز قبول ہوئی ہو یا ممکن ہے کہ پہلی نماز کسی وجہ سے فاسد ہوچکی ہو تجھے خبر نہ ہوئی ہو،اﷲ تعالٰی اس نفل کو اس فرض کے قائم مقام کردے یارب قادر ہے کہ فرض کو نفل اور نفل کو فرض بنادے بہرحال دوسری نماز ہی شرعًا نفل ہے جیسا کہ ابھی احادیث میں گزر چکا، نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حکام دیر سے نماز پڑھنے لگیں تو تم اکیلے نماز پڑھ لیا کرنا پھر ان کے ساتھ بھی جماعت کے ساتھ پڑ ھ لیا کرنا یہ دوسری نفل ہوجائے گی۔

1157 -[8]

وَعَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُونَةَ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ. فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ؟ فَقَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُول الله يَقُولُ: «لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت سلیمان مولیٰ میمونہ سے  ۱؎ فرماتے ہیں مقام بلاط میں حضرت ابن عمر کے پاس گئے لوگ نماز پڑھ رہے تھے۲؎ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۳؎ فرمایا میں پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے سنا کہ ایک دن میں ایک نماز دوبارہ نہ پڑھو ۴؎ (احمد،ابو داؤد،نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To