Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎  یہ سمجھ کر کہ مسجد میں نماز ہوچکی ہوگی۔ممکن ہے کہ یہ کسی دور کے محلہ کے باشندے ہوں اور اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھ کر آئے ہوں۔بہرحال ان صحابی پر یہ اعترا ض نہیں کہ انہوں نے بغیر جماعت گھر میں نماز کیوں پڑھی۔

۴؎  یہ حکم استحبابی ہے اور یہ نماز نفل ہوگی لہذا انہیں اوقات میں ہوسکے گی جن میں بعد فرض نفل جائز ہیں یعنی ظہر و عشاء۔خیال رہے کہ یہ جماعت اولیٰ کے آداب ہیں دوسری جماعتیں ہوتی رہیں تم وہاں بیٹھے رہو کیونکہ ابھی حدیث میں گزر چکا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے صدیق اکبر کو حکم دیا کہ فلاں کے ساتھ نماز پڑھ لو وہ جماعت ہوتی رہی اور سر کا مع صحابہ مسجد میں تشریف فرما رہے۔

1154 -[5]

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا من ذَلِك فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلَنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے ایک شخص اسد ابن خزیمہ سے ۱؎ کہ انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری سے پوچھا کہا کہ ہم میں سے کوئی اپنی جگہ نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور نماز کی تکبیر ہو تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھ لوں میرے دل میں اس سے کچھ شبہ ہے ۲؎  ابو ایوب نے فرمایا کہ ہم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا آپ نے فرمایا یہ اس کے لیئے ڈبل حصہ ہے ۳؎(مالک و ابودؤد)

۱؎ ایک قبیلہ کا نام ہے جس کا مورث اعلیٰ اسد ابن خزیمہ ابن مدر کہ ابن الیاس ابن مضر ہے لہذا یہ مضر کا ایک بطن ہے۔

۲؎  شبہ یہ ہے کہ جب گھر میں ایک بار نماز پڑھ لی تو دوبارہ کیوں پڑھوں ایک دن میں ایک نماز دوبارہ نہیں ہوا کرتی۔

۳؎یعنی یہ جماعت کی نماز نفل ہوگی نہ کہ فرض لہذا ایک نماز دوبار نہ ہوئی اور اس سے تمہیں جماعت کا ثواب نفع میں مل جائے گا۔

1155 -[6]

وَعَن يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآنِي جَالِسا فَقَالَ: «ألم تسلم يَا زيد؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَسْلَمْتُ. قَالَ: «وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟» قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ. فَقَالَ: «إِذَا جِئْتَ الصَّلَاةَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِه مَكْتُوبَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت یزید ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز میں تھے میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شامل نہ ہوا ۱؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نماز سے فارغ ہوئے میں بیٹھا ہوا تھا تو فرمایا اے یزید تم مسلمان نہیں میں نے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ میں مسلمان ہوچکا فرمایا کہ تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز میں شرکت سے کس نے منع کیا ۲؎ میں نے عرض کیا کہ میں اپنی جگہ میں نماز پڑھ چکا ہوں میں سمجھا کہ آپ حضرات نماز پڑھ چکے ۳؎  تو فرمایا کہ جب تم نماز کو آؤ اور لوگوں کو پاؤ ان کے ساتھ نماز پڑھو اگرچہ پڑھ چکے ہو یہ نماز تمہاری نفل ہوجائے گی اور وہ فرض ۳؎(ابودؤد)

۱؎ کیونکہ اپنے محلے کی مسجد میں باجماعت نماز پڑھ آیا تھا یا گھر میں اکیلے پڑھ چکا تھا یہ سمجھ کر مجھے دیر ہوگئی کہ مسجد نبوی میں نماز ہوچکی ہوگی۔

 



Total Pages: 519

Go To