$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1152 -[3]

عَن يزِيد بن الْأسود قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْحَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ: «عَلَيَّ بِهِمَا» فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» . فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت یزید ابن اسود سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ آپ کے حج میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی جب آپ نماز پوری کرچکے اور پھر ے تو  آخری قوم میں دو شخص تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ انہیں لایا گیا ان کے کندھے کانپ رہے تھے ۲؎ فرمایا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  ہم اپنی منزلوں میں نماز پڑھ چکے تھے فرمایا ایسا نہ کرو جب اپنی منزلوں میں نماز پڑھ لو پھر جماعت کی مسجد میں آؤتو ان کی ساتھ بھی پڑھ لو کہ وہ تمہارے لیئے نفل ہوجائے گی۳؎ (ترمذی، ابودؤد،نسائی)

۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کا شمار اہل طائف میں ہے کوفہ میں آپ کی احادیث بہت زیادہ شائع ہوئیں۔

۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت خداداد کی وجہ سے جیسا کہ احادیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہیبت بھی دی گئی اور محبوبیت بھی جو پہلی بار حاضر ہوتا مرعوب ہوجاتا جو حاضر رہتا وہ آپ کا عاشق جانباز بن جاتا۔

۳؎ یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی اور اس میں وہ نمازیں مراد ہیں جن کے بعد نفل جائز ہے ہر نماز مراد نہیں اگر ہر نماز مراد ہو تو یہ حدیث منسوخ ہے ان احادیث سے جن میں فرمایا گیا کہ فجر و عصر کے بعد نوافل نہ پڑھو، نیز اسی باب کے آخر میں آرہا ہے کہ جو فجر یا مغرب پڑھ چکا ہو پھر جماعت پالے تو اس کے ساتھ نہ پڑھے۔بہرحال یہ حدیث مطلقًا قابل عمل نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1153 -[4]

وَعَن بسر بن محجن عَن أَبِيه أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَرَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟» فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتَ الْمَسْجِدَ وَكُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ» . رَوَاهُ مَالك وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت بسر ابن محجن سے وہ اپنے والد سے راوی کہ وہ ایک مجلس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نماز کی اذان ہوئی  ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور واپس ہوئے محجن اپنی جگہ رہے ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کون سی شئے مانع ہوئی کیا تم مسلمان نہیں۲؎ عرض کیا ہاں یا رسول اﷲ لیکن میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا۳؎ تب ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جب تم مسجد میں آؤ حالانکہ نماز پڑھ چکے ہو اور نماز کی تکبیریں کہی جائیں تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لو اگرچہ پہلے پڑھ چکے ہو۴؎(مالک و نسائی)

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ داخل مسجد میں حضور کے ساتھ تھے،اذان ہوتے حضور نے وہیں نماز پڑھی یہ وہیں بیٹھے رہے اسی بنا پر حضور کا ان پر وہ عتاب ہوا جو آگے آرہا ہے جیسا کہ عرض کیا جائے گا۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں بیٹھا رہنا سخت گناہ بلکہ کفار کی علامت ہے یا تو بہ نیت نفل جماعت میں شریک ہوجائے ورنہ تکبیر سے پہلے ہی وہاں سے چلا جائے ۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمانا کہ کیا تم مسلمان نہیں اپنی بے علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہی بتانے کے لیئے ہے کہ یہ علامت کفار کی ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html