Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۸؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ امروجوب کے لیئے ہے کیونکہ بعض روایات میں بھی ہے کہ فرمایا جہاں ابوبکر ہوں وہاں کسی کی امامت کا حق نہیں۔

 ۹؎ اس فرمان میں حکم سرکاری سے سرتابی نہیں بلکہ اظہار معذوری ہے کیونکہ آپ کو اندیشہ تھا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ خالی دیکھ کر صبر نہ کرسکو ں گا،لوگوں کو قرأت نہ سنا سکوں گا،چیخیں نکل جائیں گی۔

۱۰؎  یعنی میری کیا مجال کہ آپ کی موجودگی میں امام بنوں،آپ جناب مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے انتخاب میں آچکے،آپ کی اس امامت سے لوگوں کی تقدیریں وابستہ ہوچکیں،اس سے بہت سے سربستہ راز کھلیں گے،آگے بڑھیئے اﷲ آپ کو صبر دے گا۔

۱۱؎ یعنی داہنی طرف اور بائیں طرف بار ی باری سے حضرت علی مرتضٰے فضل ابن عباس اور اسامہ ابن زید جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔خیال رہے کہ یہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہوئے وہ سمجھتے تھے کہ یہ آخری خدمت ہے جتنا موقع مل جائے غنیمت ہے۔شعر

نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں                 نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں

۱۲؎ معلوم ہوا کہ ان نمازوں میں صدیق اکبر بجائے سجدہ گاہ کے جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کو کنکھیوں سے دیکھتے تھے یعنی تن بکار او ر دل بیار پر عمل تھا ایسی کامل نماز کسے نصیب ہوسکتی ہے۔

۱۳؎  خیال رہے کہ یہ حضرات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرے شریف سے محراب النبی تک لائے یعنی آدھی صف کے سامنے سے گزرے ان کے لیئے یہ گزرنا جائز تھا کیونکہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تھا۔شرعی حکم تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔خیال رہے کہ صدیق اکبر نے اس زمانہ میں ۱۷ نمازیں پڑھائیں ہیں کیونکہ دو  دن پہلے عشاء کے وقت آپ کو امام بنایا گیا اور آج ظہر کو یہ وقعہ ہوا۔

۱۴؎ بعض کم عقلوں نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضرت علی سے ناراض تھیں کیونکہ علی مرتضی نے تہمت کے موقعہ پر آپ کی حمایت پر زور نہ دیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ حضور آپ کو بیویاں اور بھی مل جائیں گی مگر یہ غلط ہے کیونکہ دوسروں سے عائشہ صدیقہ نے آپ کا نام لیا ہے جیسا کہ بہت سی روایات میں ہے۔(مرقاۃ)نیز تعجب ہے کہ ام المؤمنین یہاں تو علی مرتضٰی کا نا م تک نہ لیں ادھر آپ کے اکثر فضائل کی روایتیں حضرت عائشہ صدیقہ سے ہی مروی ہیں،نام نہ لیں فضائل بیان کریں یہ کیسے ہوسکتا ہے بلکہ اس کی وجہ وہی ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے کہ اس جانب کچھ دور حضرت علی مرتضٰی رہے،کچھ دور فضل ابن عباس اور کچھ دور حضرت اسامہ ابن زید۔خیال رہے کہ یہ واقعہ ہفتہ یا اتوار کی ظہر کا ہے۔سوموار یعنی خاص وفات کے دن فجرکے وقت اولًا آپ نے پردہ اٹھا کر جماعت کو دیکھا اور دعائیں دیں،دوسری رکعت میں تشریف لا کر نماز میں شریک ہوگئے پہلے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم امام ہوئے ہیں اور صدیق مقتدی مگر سوموار کی فجر میں صدیق اکبر ہی امام رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ہے اور اسی دن وفات شریف ہوگئی۔یہ مرقاۃ کی تحقیق ہے اور اس سے تمام روایتیں جمع ہوجاتی ہیں۔

1148 -[13]

وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ وَمَنْ فَاتَتْهُ قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ فقد فَاتَهُ خير كثير» . رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے تھے جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالی اور جس سے الحمد کی قرأت چھوٹ گئی اس کی بہت خیر جاتی رہی ۱؎(مالک)

 



Total Pages: 519

Go To