Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1147 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عبيد الله بن عبد الله بن عتبَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «أصلى النَّاس؟» قُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ» . قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وجد من نَفْسِهِ خِفَّةً وَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ: «أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ» فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَاعد. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثتنِي بِهِ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قلت لَا قَالَ هُوَ عَليّ رَضِي الله عَنهُ

روایت ہے حضرت عبید اﷲ ابن عبدا ﷲ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کی بابت کچھ نہ بتائیں گی فرمایا ہاں ضرور ۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بہت بیمار ہوگئے تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسول اﷲ نہیں وہ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں ہم نے کردیا ۲؎ آپ نے غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۳؎ پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسو ل اﷲ نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں پھر حضور بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی ۴؎ پھر کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ نہیں وہ لوگ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیے لگن میں پانی رکھو پھر بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۵؎ پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض نہیں یارسول اﷲ وہ آپ کے منتظر ہیں اور لوگ مسجد میں ٹھہرے ہوئے آخری عشاء کے لیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے ۶؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق کو پیغام بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ کے پاس قاصد آیا ۷؎ عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۸؎  ابوبکر صدیق نرم دل تھے فرمایا اے عمر تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ ۹؎  عمر فاروق نے عرض کیا کہ اس کے حقدار آپ ہی ہیں ۱۰؎  چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر صدیق نماز پڑھاتے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن پایا اور دو شخصوں کے درمیان نماز ظہر کے لیئے نکلے جن میں سے ایک عباس تھے ۱۱؎ اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر صدیق نے آپ کو دیکھا تو پیچھے جانے لگے ۱۲؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ جاؤ فرمایا کہ ابوبکر کے برابر بٹھا دو ان دونوں نے آپ کو ابوبکر کے برابر بٹھاد یا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۱۳؎ عبید اﷲ کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عبداﷲ ابن عباس کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھے حضرت عائشہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق سنائی فرمایا لاؤ میں نے ان پر ان کی پوری حدیث پیش کردی آپ نے اس کا کچھ بھی انکار نہ کیا بجز اس کے فرمایا کیا حضرت عائشہ نے تمہیں ان صاحب کا نام بھی بتایا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے میں نے کہا نہیں فرمایا وہ علی تھے ۱۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ مرض سے مراد مرض وفات شریف ہے،چونکہ اس زمانہ میں ام المؤمنین  ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار دار ہی ہیں۔اس لیئے صحابہ کرام آپ ہی سے اس مرض کے حالات پوچھا کرتے تھے۔خیال رہے کہ یہ سائل حضرت عبید ا ﷲ ابن عبداﷲ ابن عتبہ ابن مسعود ہذلی ہیں۔یعنی عبداﷲ ابن مسعود کے بھتیجے اور عمر بن عبدالعزیز کے استاد،فقہائے مدینہ میں سے تھے،تابعی تھے،نابینا تھے،   ۹۲ھ ؁میں وفات پائی۔حق یہ ہے کہ ان کے والد بھی تابعی ہیں،ان کی وفات ۷۴ھ ؁ میں ہوئی۔

۲؎ مخضب اور مرکن قریبًا ہم معنی ہیں۔یعنی کپڑے دھونے کا برتن۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جماعت سے کتنی محبت تھی کہ ایسی سخت تکلیف میں بھی جماعت ہی کی فکر ہے۔صحابہ کرام کا یہ عشق تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر نماز نہ پڑھتے تھے اگرچہ قضا ہی ہوجائے۔

۳؎ شاید یہ غسل سے مراد وضو یا وضو کے لیئے ہاتھ دھونا ہے۔ورنہ ہر بار غسل کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی،نیز جب ضعف کا یہ حال ہے کہ جنبش پر غشی طاری ہوجاتی ہے تو غسل کیسے ہوسکتا ہے۔

۴؎  بے ہوشی ایک قسم کی بیماری ہے لہذا انبیائے کرام پر طاری ہوسکتی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَخَرَّ مَوْسٰی صَعِقًا"۔جنون خرابی عقل ہے اور عیب اس سے انبیاء کرام محفوظ ہیں۔بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضرات انبیاء پر غشی بھی گھڑی دو گھڑی کی آسکتی ہے نہ کہ مہینہ دو مہینہ کی کہ وہ غشی جنون کی مثل ہے۔

۵؎  بعض کا خیال ہے کہ یہ باربار غسل علاج کے لیئے تھا کہ بخار کا علاج غسل تھا مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ عرب میں بعض بخاروں کا علاج سورج نکلنے کے وقت کا غسل ہے،نیز اگر علاجًا ہوتا تو یہ بعد نماز بھی ہوسکتا تھا۔

۶؎  نہ دروازہ عالیہ پر آواز دیتے تھے کہ بے ادبی ہے اور نہ اکیلے نماز پڑھتے تھے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء سے محرومی ہے۔

۷؎ یعنی حضرت بلال مؤذن رسول ا ﷲ بعض تاریخی روایات میں ہے کہ آپ روتے ہوئے آئے اور کہا کہ لوگو مدینہ اجڑ چلا،مسجد نبوی ویران ہوچلی آج بغیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جماعت ہوگی پھر یہ پیغام عرض کیا۔

 



Total Pages: 519

Go To