$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

شخصوں کی جماعت سے بھی ثواب جماعت مل جاتا ہے۔تیسرے یہ کہ اگر فرض والے کے ساتھ ایک نفل والا بھی شریک ہوجائے تب بھی جماعت کا ثواب مل جائے گا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1147 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عبيد الله بن عبد الله بن عتبَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «أصلى النَّاس؟» قُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ» . قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وجد من نَفْسِهِ خِفَّةً وَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ: «أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ» فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَاعد. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثتنِي بِهِ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قلت لَا قَالَ هُوَ عَليّ رَضِي الله عَنهُ

روایت ہے حضرت عبید اﷲ ابن عبدا ﷲ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کی بابت کچھ نہ بتائیں گی فرمایا ہاں ضرور ۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بہت بیمار ہوگئے تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسول اﷲ نہیں وہ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں ہم نے کردیا ۲؎ آپ نے غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۳؎ پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسو ل اﷲ نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں پھر حضور بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی ۴؎ پھر کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ نہیں وہ لوگ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیے لگن میں پانی رکھو پھر بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۵؎ پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض نہیں یارسول اﷲ وہ آپ کے منتظر ہیں اور لوگ مسجد میں ٹھہرے ہوئے آخری عشاء کے لیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے ۶؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق کو پیغام بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ کے پاس قاصد آیا ۷؎ عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۸؎  ابوبکر صدیق نرم دل تھے فرمایا اے عمر تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ ۹؎  عمر فاروق نے عرض کیا کہ اس کے حقدار آپ ہی ہیں ۱۰؎  چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر صدیق نماز پڑھاتے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن پایا اور دو شخصوں کے درمیان نماز ظہر کے لیئے نکلے جن میں سے ایک عباس تھے ۱۱؎ اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر صدیق نے آپ کو دیکھا تو پیچھے جانے لگے ۱۲؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ جاؤ فرمایا کہ ابوبکر کے برابر بٹھا دو ان دونوں نے آپ کو ابوبکر کے برابر بٹھاد یا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۱۳؎ عبید اﷲ کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عبداﷲ ابن عباس کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھے حضرت عائشہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق سنائی فرمایا لاؤ میں نے ان پر ان کی پوری حدیث پیش کردی آپ نے اس کا کچھ بھی انکار نہ کیا بجز اس کے فرمایا کیا حضرت عائشہ نے تمہیں ان صاحب کا نام بھی بتایا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے میں نے کہا نہیں فرمایا وہ علی تھے ۱۴؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html