Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

معلوم ہوا کہ اولیاء کے سامنے جنت دوزخ وہاں رہنے والے سب ہیں۔اور مروجہ تیجہ جس میں چنوں پر سوا  لاکھ کلمہ طیبہ پڑھوا کر بخشا جاتا ہے درست ہے۔یہ واقعہ مولوی محمد قاسم نے بھی تحذیر الناس میں حضرت جنید بغدادی کی طرف منسوب کیا ہے۔

1144 -[9]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كُتِبَ لَهُ بَرَاءَتَانِ: بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاق ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اﷲ کے لیئے چالیس دن باجماعت نماز پڑھے کہ پہلی تکبیر پاتا رہے تو اس کے لیئے دو پروانے لکھے جائیں گے ایک پروانہ آگ سے آزادی کا دوسرا نفاق سے آزادی کا ۱؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی اس عمل کی برکت سے یہ شخص دنیا میں منافقین کے اعمال سے محفوظ رہے گا،اسے اخلاص نصیب ہوگا،قبر و آخرت میں عذاب سے نجات پائے گا۔خیال رہے کہ انسانی تبدیلیاں چالیس پر ہوتی ہیں،بچہ ماں کے پیٹ میں ۴۰ دن نطفہ،چالیس دن خون،پھر چالیس روز اور پارہ گوشت رہتا ہے،بعد ولادت ماں کو چالیس دن نفاس آسکتا ہے،چالیس سال میں عقل کامل ہوتی ہے اس لیئے یہاں بھی چالیس کا عدد مذکور ہوا۔ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص چالیس دن اخلاص اختیار کرے تو اس کے دل کی طرف زبان پر حکمت کے چشمے پھوٹیں گے۔یہ حدیث صوفیاء کے چلو کی اصل ہے۔مرقاۃ نے فرمایا سلف صالحین کی اگر کوئی جماعت چھوٹ جاتی تو سات سات روز تک لوگ تعزیت کے لیئے آتے۔تکبیر تحریمہ پانے کے معنی یہ ہیں کہ امام کی قرأت شروع ہونے سے پہلے مقتدی "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ" پڑھ لے۔

1145 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ م أُجُورهم شَيْئا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وضو کرے تو اچھا کرے پھر چلے لوگوں کو پائے کہ نماز پڑھ چکے،اﷲ اسے اس کی طرح ثواب دے گا جس نے نماز باجماعت پڑھی،یہ ان کے ثواب سے کچھ کم نہ کرے گا ۱؎ (ابوداؤد، نسائی)

۱؎ کیونکہ اس نے جماعت کی نیت و کوشش تو کی اتفاقًا نہ پاسکا بلکہ جماعت چھوٹ جانے پر مومن کو جو حسرت اور افسوس ہوتا ہے اس کا ثواب بہت ہے یہ سب کچھ اس کے لیئے ہے جس نے کوتاہی نہ کی ہو وقت کے اندازے میں غلطی ہوگئی ہو۔

1146 -[11]

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟» فَقَامَ رَجُلٌ فيصلى مَعَه ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ایک صاحب آئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے تو حضور نے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو ان پر احسان کرے کہ ان کے ساتھ نماز پڑھے ایک صاحب کھڑے ہوئے ان کے ساتھ نماز پڑھ لی ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ یہ کھڑے ہونے والے صاحب ابوبکر صدیق تھے جیساکہ بیہقی شریف میں ہے اور یہ وقت فجر عصر و مغرب کے علاوہ ہوگا وہ صاحب امام بنے ابوبکر صدیق مقتدی ان کے فرض ادا ہوئے صدیق اکبر کے نفل۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جماعت ثانیہ جائز ہے،بازار کی مسجد میں تو ہر طرح،محلے کی مسجد میں جہاں امام و مقتدی مقرر ہوں وہاں پہلے امام کی جگہ سے ہٹ کر۔دوسرے یہ کہ دو



Total Pages: 519

Go To