$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

صورت گدھے کی سی تھی اور فرمایا کہ میں اس حدیث کو خلاف عقل سمجھ کر آزمائش کے لیے امام سے آگے بڑھا تھا تو اس مصیبت میں گرفتار ہوگیا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1142 -[7]

عَنْ عَلِيٍّ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت علی اور معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز کو آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو جیسا امام کررہا ہے وہی خود کرے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی اپنی باقیماندہ نماز پہلے نہ پڑھے بلکہ امام کے ساتھ شریک ہوجائے سلام پھیرنے کے بعد باقی ماندہ نماز پوری کرے یہ حکم مسبوق کا ہے،لاحق کا حکم اس کے برعکس ہے وہ پہلے چھوٹی ہوئی نماز بغیر قرأت پڑھے گا پھر امام کے ساتھ ملے گا۔

1143 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهُ شَيْئًا وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فقد أدْرك الصَّلَاة».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم نماز کو آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرلو اور اسے کچھ شمار نہ کرو ۱؎ اور جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالی ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی سجدہ ملنے سے رکعت نہ ملے گی ہاں ثواب مل جائے گا،شیئًا سے یہی مراد ہے۔

۲؎ اس حدیث کے دو مطلب ہیں:ایک یہ کہ رکعت سے مراد رکوع ہے اور صلوۃ سے مراد رکعت یعنی رکوع مل جانے سے رکعت مل جاتی ہے۔معلوم ہوا کہ مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں ورنہ فرض رہ جانے پر رکعت نہ ملتی۔دوسرے یہ کہ رکعت سے مراد رکعت ہے اور صلوۃ سے مراد نماز یعنی جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پالی اسے جماعت مل گئی۔اس لیئے امام محمد نے فرمایا کہ جمعہ اسے ملے گا جسے امام کے ساتھ ایک رکعت مل جائے کیونکہ اس سے کم ملنے پر جماعت نہیں ملتی اور جماعت جمعہ میں شرط ہے مگر شیخین فرماتے ہیں کہ جو سلام سے پہلے جماعت میں داخل ہوگیا اس کو جمعہ مل گیا حتی کہ اگر امام کے سجدہ سہو میں مل گیا تب بھی جمعہ مل جائے گا،تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔

واقعہ عجیبہ: اس جگہ ملا علی قاری نے حدیث کے ضعف اور قوت پر بحث کرتے ہوئے مرقاۃ میں فرمایا کہ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ جو ستر ہزار بار کلمہ شریف پڑھ لے یا پڑھ کر کسی کو بخش دیا جائے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے میں نے اتنا کلمہ پڑھ لیا تھا،ایک دن میرے ہاں دعوت میں ایک صاحب کشف جوان حاضر تھا اچانک رونے لگا،سبب پوچھا بولا کہ میں اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں،میں نے اپنے دل میں پڑھا ہوا وہ کلمہ اس کی ماں کو بخش دیا وہ جوان اچانک ہنس پڑا اور بولا کہ اب میں اسے جنت میں دیکھتا ہوں،میں نے اس حدیث کی صحت اس ولی کے کشف سے معلوم کی اور اس کے کشف کی صحت حدیث سے۔اس واقعہ سے



Total Pages: 519

Go To
$footer_html