Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثانی

دوسری فصل

781 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصَاهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصَى فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے منہ کے سامنے کچھ رکھ لے ۱؎ اگر نہ پائے تو اپنی لاٹھی گاڑھ لے اگر اس کے پاس لاٹھی نہ ہو تو خط کھینچ لے پھر جو چیز سامنے سے گزرے تو اسے نقصان نہ دے گی۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی ایک ہاتھ لمبی اور ایک انگل موٹی کوئی چیزجیسا کہ پچھلی احادیث میں صراحتًا گزر گیا۔بعض نمازی اپنے آگے چاقو یا پیالہ وغیرہ رکھ لیتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں وہ حدیث کا مطلب نہیں سمجھے۔

۲؎  خط کھینچنے کی حدیث مضطرب ہے ضعیف بھی۔دیکھو مرقا ت،لمعات وغیرہ۔اس لیے اکثر علماء نے اس پرعمل نہ کیا وہ خط کومحض بے کار سمجھتے ہیں۔بعض نے فرمایا کہ اس خط کی وجہ سے سامنے گزرنے کا اثر نماز پر نہ ہوگا اس کی نماز خراب نہ ہوگی مگر اس سے گزرنا جائز نہ ہوگا اور گزرنے والا گنہگار بھی ہوگا اسی لیے یہاں لَایَضُرُّہٗ فرمایا یعنی نمازی کو مضر نہیں نہ کہ گزرنے والے کو،مگر صحیح قول جمہو ر ہی کا ہے کیونکہ خط نہ تو  آڑ بنتا ہے نہ کسی کو نظر ہی آتا ہے تو اس کا ہونا نہ ہونا یکساں ہے۔

782 -[11]

وَعَن سهل بن أبي حثْمَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے  ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ جب تم میں سے کوئی سترے کی طرف نماز پڑھے۲؎ تو اس سے قریب رہے شیطان اس کی  نماز نہ توڑ سکے گا ۳؎(ابوداؤد)

۱؎  آپ انصاری ہیں، اوسی ہیں،      ۳ھ ؁میں پیدا ہوئے،آپ کی کنیت ابو محمد یا ابو عمارہ ہے ،کوفہ قیام تھا، امیر معاویہ رضی اللہ  عنہ کے زمانہ میں وہیں وفات پائی،بہت صحابہ نے آپ سے روایتیں لی ہیں۔

۲؎  بعض نے فرمایا کہ سترہ سے تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز کے فاصلے پر کھڑا ہو مگر صحیح یہ ہے کہ بقدر سجدہ دور رہے اس کے لیئے حد مقرر نہیں کی جاسکتی کیونکہ بعض لوگ دراز قد ہوتے ہیں،بعض پست قد۔

۳؎ یعنی اس سترے یا قرب کی برکت یہ ہوگی کہ شیطان نماز میں وسوسہ نہ ڈال سکے گا۔معلوم ہوا کہ جیسے بسم اﷲ کی برکت سے شیطان کھانے سے دور رہتا ہے اور کھلے گھڑے پر لکڑی کھڑی کردینے سے بلائیں دور رہتی ہیں ایسے ہی سترے کی برکت سے نمازی سے شیطان دور رہتا ہےیہ قدرتی چیز ہے۔

783 -[12]

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يصمد لَهُ صمدا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت مقداد بن اسود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کو لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے نہ دیکھا مگر آپ اسے اپنی داہنی یا بائیں بھوؤں کے سامنے رکھتے تھے  ۱؎  اور بالکل اس کے سامنے نہ ہوتے تھے ۲؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To