Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1140 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَال يوذنه لصَلَاة فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ» فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يخطان فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بكر حسه ذهب أخر فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن لَا يتَأَخَّر فجَاء حَتَّى يجلس عَن يسَار أبي بكر فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مقتدون بِصَلَاة أبي بكر

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِير

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوئے تو حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیئے آئے ۱؎ فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر نماز پڑھاتے ۲؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنی طبیعت میں کچھ  ہلکا پن پایا تو کھڑے ہوئے کہ دو شخصوں کے درمیان لے جائے جاتے تھے اور آپ کے قدم زمین پر گھسٹتے تھے۳؎حتی کہ آپ مسجد میں تشریف لائے جب صدیق اکبر نے آپ کی آہٹ محسوس کی تو آپ پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا  کہ نہ ہٹو۴؎پس آپ تشریف لائے اور حضرت صدیق کی بائیں بیٹھ گئے ۵؎ کہ صدیق کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر اور صدیق اکبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ صدیق اکبر کی نماز کی ۶؎(مسلم،بخاری) اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ صدیق اکبر لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے۔

۱؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ اذان کے بعد کسی خاص شخص کو دروازے پر جا کر نماز کی اطلاع  دینا ممنوع ہے سوائے سلطان اسلام اور اس عالم دین کے جو ہر وقت دینی مشاغل میں رہتا ہے اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲؎ آپ نے ۱۷ نمازیں پڑھائیں ہیں۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بعد انبیاء افضل الخلق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ امام افضل ہی کو بنایا جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کے آپ ہی مستحق ہیں کیونکہ،یہ امامت اصغریٰ امامت کبریٰ کی دلیل ہے گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر آپ کو اپنا خلیفہ بنادیا خلافت صرف قول سے ہی نہیں ہوا کرتی اسی لیئے تمام صحابہ خصوصًا حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا کہ صدیق کو رسول اﷲ نے ہمارے دین کا امام بنادیا تو ہم نے انہیں اسی دنیا کا امام بنالیا۔تیسرے یہ کہ امامت کا مستحق پہلے عالم ہے پھر قاری۔چوتھے یہ کہ ابوبکر صدیق تمام  صحابہ میں بڑے عالم ہیں۔(ازمرقاۃ و مدارج النبوۃ)

۳؎  وہ  دو شخص حضرت عباس و علی مرتضی ہیں  یا حضر ت عباس و اسامہ یا حضرت عباس و فضل ابن عباس۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ ایک جانب حضرت عباس اول سے آخر تک رہے ہوں اور دوسری جانب باری باری سے یہ حضرات۔شیخ نے فرمایا کہ انبیاء کرام پر یہ بیماریاں اور کمزوریاں بشریت کے عوارض میں سے ہیں۔

۴؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ان نمازوں میں تمام صحابہ خصوصًا صدیق اکبر کا منہ کعبہ کی طرف تھا اور دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف،زبان قرآن میں مصروف تھی اور کان جناب مصطفے کی طرف اس سے ان کی نماز زیادہ کامل ہوئی ورنہ نماز کے خشوع میں کسی کی آہٹ کیسے سنی جاسکتی ہے۔دوسرے یہ کہ صدیق اکبر عین نماز میں خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرتے تھے کہ ادبًا پیچھے ہٹ کر مقتدی بننے لگے یہ ادب شرک نہ تھا بلکہ کمال توحید۔تیسرے یہ کہ صدیق اکبر نماز کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام بلکہ اشاروں کی اطاعت کرتے تھے کہ اشارہ پا کر کھڑے رہے کیوں نہ ہو کہ نماز بھی انہیں کی اطاعت ہے۔

۵؎ امام بن کر نہ کہ مقتدی  ہو کر ورنہ داہنی جانب بیٹھتے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے تمام کی امامتیں منسوخ ہوجاتی ہیں کیوں نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر تو انبیاء کی امامت کبریٰ یعنی نبوت منسوخ ہوگئی۔

۶؎ اس طرح کہ ابوبکر صدیق لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیریں پہنچاتے تھے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نماز کے دو امام تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آوا ز بوجہ ضعف دور تک نہ پہنچ سکتی تھی۔فقہاء فرماتے ہیں اگر امام بہت کمزور ہویا پیچھے مجمع زیادہ ہو تو مؤذن یا دیگر مقتدی امام کی تکبیریں لوگوں تک پہنچائیں اس کاماخذ یہ حدیث ہے۔

1141 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حمَار»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھالیتا ہے وہ اس سے نہیں ڈرتا کہ اﷲ اس کا سر گدھے کا سا کردے ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی کی تاویل کی ضرورت نہیں یعنی امام سے آگے بڑھنا اتنا جرم ہے کہ اس پر صورت مسخ ہوسکتی ہے اگر کبھی نہ ہو تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا صدقہ ہے۔یہاں مرقاۃ نے ایک عجیب واقعہ بیان کیا کہ ایک محدث دمشق کے کسی مشہور شیخ کے پاس حدیث سیکھنے گئے وہ شیخ پردے میں رہ کر انہیں حدیث پڑھایا کرتے تھے ایک دن ان کے اصرار پر پردہ اٹھایا تو ان کی



Total Pages: 519

Go To