Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1139 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِما فصلوا قيَاما فَإِذا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبنَا وَلَك الْحَمد وَإِذا صلى قَائِما فصلوا قيَاما وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ: «إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلَى أَجْمَعُونَ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَا تختلفوا عَلَيْهِ وَإِذا سجد فاسجدوا»

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر گئے تو آپ کی دائیں کروٹ چھل گئی ۱؎ پھر آپ نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر ہی پڑھی جب فارغ ہوئے تو فرمایا امام اس لیئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تو جب وہ نماز کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو جب اٹھائے تو تم اٹھاؤ جب کہے سمع اﷲ لمن حمدہ تو تم کہو ربنا لك الحمد جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بیٹھ کر پڑھو ۲؎ حمیدی فرماتے ہیں کہ یہ حکم کہ وہ بیٹھ کر پڑھے تم بیٹھ کر پڑھو آپ کے پرانے مرض میں تھا پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز بیٹھ کر پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے اور انہیں بیٹھنے کا حکم نہ دیا اور  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل لیا جاتا ہے اور آخری یہ ہے ۳؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم سے اجمعون تک متفق ہیں اور ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ امام کی مخالفت نہ کرو جب سجدے کرے سجدہ کرو تم۔

۱؎ شیخ نے فرمایا کہ یہاں حضور کا گھوڑے سے گر جانا اور کروٹ چھیل جانا بحکم بشریت ہے شیخ کا مطلب یہ کہ معراج میں برق رفتار براق پر سوار ہونا اور آسمانوں کی سیر کرنا بہ تقاضائے ملکیت تھا۔

۲؎ امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں کہ اگر امام قبیلہ کا امام ہو اور اس کی بیماری بھی عارضی ہو مرض وفات نہ ہو اور نماز بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی  کو بھی بیٹھنا پڑے گا بلکہ ایسا امام اگر کھڑے ہو کر نماز شروع کرے اور اسے درمیان میں بیٹھنا پڑ جائے تو مقتدی بھی بیٹھ جائیں گے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،باقی تمام آئمہ اس کے خلاف ہیں وہ فرماتے ہیں یہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔(لمعات)

۳؎ یہاں یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کہ وہ حضور کا قول تھا یہ فعل ہے اور قول فعل سے منسوخ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ کھڑا ہونا صحابہ کا فعل تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منع نہ فرمانا اس کی تائید ہے کیونکہ فعل قول کا ناسخ وہاں ہوتا جہاں فعل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت کا احتمال ہو یہاں یہ بات نہیں،دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کی اجرت کو خبیث فرمایا اور خود ابوطیبہ سے فصد کھلوا کر انہیں اجرت دی آپ کا یہ فعل اس قول کا ناسخ ہے کیونکہ یہاں دینا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے لینا حضرت ابو طیبہ کا لہذا یہ آپ کے خصائص میں سے نہ رہا۔خیال رہے کہ یہ حمیدی امام بخاری کے شیخ ہیں،وہ حمیدی نہیں جو جامع صحیحین ہیں،دھوکا نہ کھانا۔

1140 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَال يوذنه لصَلَاة فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ» فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يخطان فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بكر حسه ذهب أخر فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن لَا يتَأَخَّر فجَاء حَتَّى يجلس عَن يسَار أبي بكر فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مقتدون بِصَلَاة أبي بكر

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِير

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہوئے تو حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیئے آئے ۱؎ فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر نماز پڑھاتے ۲؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنی طبیعت میں کچھ  ہلکا پن پایا تو کھڑے ہوئے کہ دو شخصوں کے درمیان لے جائے جاتے تھے اور آپ کے قدم زمین پر گھسٹتے تھے۳؎حتی کہ آپ مسجد میں تشریف لائے جب صدیق اکبر نے آپ کی آہٹ محسوس کی تو آپ پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا  کہ نہ ہٹو۴؎پس آپ تشریف لائے اور حضرت صدیق کی بائیں بیٹھ گئے ۵؎ کہ صدیق کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر اور صدیق اکبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ صدیق اکبر کی نماز کی ۶؎(مسلم،بخاری) اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ صدیق اکبر لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے۔

 



Total Pages: 519

Go To