$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب ما علی الماموم من المتابعۃ وحکم المسبوق

مقتدی پر پیروی واجب ہونے کا حکم اور حکم مسبوق ہونے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ نماز کے ہر مقتدی کو ماموم کہتے ہیں۔مقتدی کی تین قسمیں ہیں: مدرک:جو اول سے آخر تک امام کے ساتھ رہے۔مسبوق:جو آخر نماز میں امام کے ساتھ ہو اول نہ پائے۔لاحق:اس کا برعکس یعنی اول نماز پائے آخر نہ پائے۔خیال رہے کہ مقتدی پر افعال نماز میں امام کی پیروی واجب ہے نہ کہ اقوال۔

1136 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم جَبهته على الأَرْض

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب آپ سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک پیٹھ نہ جھکاتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی مبارک زمین پر رکھتے ۲؎(مسلم، بخاری)

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،غزوہ خندق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،اس سے پہلے غزوات میں لڑکپن کی وجہ سے اسلامی فوج میں نہ لیے گئے،جنگ جمل،صفین اور نہروان،میں امیر المؤمنین  علی مرتضی کے ساتھ رہے۔

۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ شروع کردینے پر ہم قومہ سے جھکنا شروع کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی کا امام اسے اتنا پیچھے رہنا سنت ہے اورامام کے ساتھ رکن نماز میں ملنا واجب حتی کہ اگر امام رکوع سے سر اٹھائے اور مقتدی ابھی تک رکوع کی تین تسبیح نہیں پڑھ سکا تو تسبیحیں چھوڑ کر امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور اگر مقتدی رکوع میں امام سے پہلے اٹھ کھڑا ہوا تو پھر لوٹ جائے یہ اس کا ایک ہی رکوع ہوگا نہ کہ دو۔(مرقاۃ)

1137 -[2]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ: فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمن خَلْفي ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جب نماز پوری ہوئی تو ہم پر اپنے چہرے سے متوجہ ہوئے فرمایا اے لوگو ! میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع سجدے قیام اور فراغت میں مجھے سے آگے نہ بڑھو ۱؎  کیونکہ میں تم کو اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سےبھی ۲؎(مسلم)

۱؎ آگے بڑھنے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ امام سے پہلے رکوع میں پہنچے اور امام کے رکوع میں آنے سے پہلے اٹھ جائے اس صورت میں اس کا رکوع نہیں ہوا کیونکہ امام کے ساتھ شرکت نہ ہوسکی۔دوسرے یہ کہ امام سے پہلے رکوع میں گیا مگر بعد میں امام بھی ا سے مل گیا یہ مکروہ ہے لیکن رکوع صحیح ہوگا کیونکہ امام کے ساتھ شرکت ہوگئی۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html