Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کی بھی پوری خبر نہ تھی جیسا کہ آگے آرہا ہے۔اس سے بعض لوگ بچے کی امامت پر دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ غلط ہے ورنہ انہیں چاہیئے کہ وہ ننگے امام کے پیچھے نماز پڑھا کریں ان حضرات کی یہ نمازیں لوٹانے کے قابل نہ تھیں کیونکہ ابھی قوانینِ اسلام شائع نہیں ہوئے تھے انکی بے علمی انکے لیئے عذر تھی۔

۸؎ کیونکہ مجھے امامت بھی ملی اور ساتھ ہی قوم کی طرف سے ایک قسم کا انعام بھی۔خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک بچے کی امامت کسی نماز میں جائز نہیں نہ نفل میں نہ فرض میں۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ بچہ جس پر حدود جاری نہیں امامت نہ کرے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ بلوغت سے پہلے بچے کی امامت جائز نہیں۔یہی قول حضرت عمر فاروق اور صدیق اکبر کا ہے۔بالغ کے نفل شروع کردینے سے واجب ہوجاتے ہیں،مگر بچے کے شروع کرنے کے بعد بھی نفل رہتے ہیں۔تعجب ہے ان بزرگوں پر جو ان صاحبزادے کی روایت پر تو عمل کرتے ہیں مگرفقہا صحابہ کے قول پر عمل نہیں کرتے۔(مرقاۃ)اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

1127 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأسد. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جب پہلے مہاجر مدینہ میں آئے تو ان کی امامت ابو حذیفہ کے غلام سالم کرتے تھے حالانکہ ان میں حضرت عمر اور ابو سلمہ بن عبد الاسد ہوتے ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے بعض صحابہ مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے جن میں حضرت عمر اور سیدنا ام سلمہ کے خاوند ابو سلمہ ابن اسد جیسے صحابہ بھی تھے لیکن چونکہ اس وقت ابو حذیفہ ابن عتبہ ابن ربیعہ کے فارسی غلام زیادہ قاری اور عالم بھی تھے اس لیئے وہ امام رہے۔ا س سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول امامت کرسکتا ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن چار شخصوں سے سیکھو، ابن مسعود،ابی ابن کعب،معاذ ابن جبل، سالم مولیٰ ابی حذیفہ(جامع صغیر سیوطی)

1128 -[12]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ لَهُم صلَاتهم فَوق رؤوسهم شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھر اونچی نہیں اٹھتی وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے جو اس سے ناراض ہوں اور وہ عورت جو رات گزارے حالانکہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو اور دو بائیکاٹ کرنے والے مسلمان بھائی ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی جو دو مسلمان دنیاوی وجہ سے ایک دوسرے سے قطع تعلق کرچکے ہوں  ان دونوں کو امام نہ بناؤں تاکہ اس وجہ سے وہ آپس میں صلح صفائی کرلیں۔خیال رہے کہ دینی وجہ سے بائیکاٹ عین عبادت ہےجیسے ہم مرزائیوں وغیرہ سے دور رہیں ایسے ہی کسی کی اصلاح کے لیئے اس کا بائیکاٹ کرنا جائز،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ نے حضرت کعب ابن مالک کا کچھ سکھانے کے لیئے چالیس دن بائیکاٹ کیا، لہذا یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔


 



Total Pages: 519

Go To