Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کہ نمازی سے آگے گزرنے والا اس لیے مجرم ہے کہ نمازی کا دھیان بانٹتا ہے ۔دوسرے یہ کہ اگر کوئی مجرم نرمی سے نہ مانے تو اسے سختی سے روکا جائے یہ سختی بھی تبلیغ کی ایک قسم ہے۔

؎  یہ چھپانے والی چیز دیوار ہو یا ستون یا لکڑی وغیرہ یا کوئی سامنے بیٹھا ہو ا  آدمی یا اونٹ وغیرہ جانور کہ سب سترہ میں داخل ہیں۔

778 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ. وَيَقِي ذَلِك مثل مؤخرة الرحل» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں کہ نماز کو عورت اور گدھا اور کتا توڑ دیتے ہیں ۱؎  اور کجاوے کی پشتی کی مثل اسے بچالیتی ہے۲؎

۱؎ یعنی اگر نمازی کے سامنے سے ان میں سے کوئی گزرے تو خیال بٹے گا اور نماز کا خشوع خضوع جاتا رہے گا،یہاں نماز ٹوٹنے سے مراد نماز کا باطل ہونا نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ نمازی کے آگے گزرنے کا وبال دونوں پر پڑتا ہے،گزرنے والا سخت گنہگار ہوتا ہے اور نمازی کا دل حاضر نہیں رہتا ،ان تین کے ذکر کی حکمت اﷲ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  ہی جانتے ہیں۔

۲؎ یعنی سترے کی برکت سے اس کی نماز محفوظ رہے گی اور گزرنے والا گنہگار نہ ہوگا دونوں کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔

779 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  رات میں نماز پڑھتے تھے حالانکہ میں آپ کے درمیان ایسے لیٹے ہوتی تھی جیسے جنازہ کا رکھا ہونا  ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  حجرہ شریف چھوٹا تھا جس میں نوافل کے لیے علیٰحدہ جگہ نہ بن سکتی تھی اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے تہجد کی کیفیت یہ ہوتی تھی۔ اس حدیث سے معلو م ہوا کہ عورت کا نمازی کے آگے سے گزرنا اور ہے اور آگے ہونا کچھ اور، گزرنا ممنوع ہے آگے ہونا ممنوع نہیں۔ اشارۃ ً یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کے گزرنے سے بھی نماز ٹوٹے گی نہیں۔یہ حدیث پچھلی حدیث کی گویا تفسیر ہے۔

780 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَين يَدي الصَّفّ فَنزلت فَأرْسلت الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِك عَليّ أحد

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار آیا حالانکہ میں اس دن قریب بلوغ تھا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  منیٰ میں لوگوں کو بغیر دیوار کی آڑ کے نماز پڑھا رہے تھے   ۱؎ میں بعض صف کے آگے سے گزرا پھر اتر پڑا گدھی کو چھوڑ دیا کہ چرتی تھی اور خود صف میں داخل ہوگیا اس کا مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے دیوار نہ تھی میدان میں نماز پڑھا رہے تھے لاٹھی وغیرہ کا سترہ ضرور تھا،چونکہ امام کا سترہ تمام مقتدیوں کے لیے کافی ہوتا ہے اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یہاں سب کے سامنے سے گزر گئے لہذا یہ حدیث سترہ کے خلاف نہیں  اسی لیے امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ یہ حدیث اس باب میں لائے کہ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضور کے آگے دیوار کے سوا کوئی اور سترہ ضرور تھا دیوار کی نفی فرمائی ہے نہ کہ سترہ کی۔

۲؎  یہ حدیث اس حدیث کی تفسیر ہے کہ نماز کو کتا،گدھا،عورت توڑ دیتے ہیں یعنی وہ حکم جب ہے کہ سترے کے بغیر سامنے سے گزریں۔

 



Total Pages: 519

Go To