Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1125 -[9]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جہاد تم پر واجب ہے ہر امیر کے ساتھ نیک ہو بَد ۱؎ اگرچہ گناہ کبیرہ کرے اور ہر مسلمان کے پیچھے تم پر نماز واجب ہے نیک ہو یا بد اگرچہ گناہ کبیرہ کرے ۲؎ اور ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے نیک ہو یا بد اگر چہ گناہ کبیرہ کرے ۳؎(ابوداؤد)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کے لیے امیر شرط ہے لیکن امیر کے لیے قریشی یا متقی ہونا شرط نہیں،ہر مسلمان امیر کے ماتحت جہاد جائز ہے یعنی اگرفاسق و فاجر امیر بن گیا ہو تو اس کے ساتھ جہاد کرو،ہاں فاسق کو امام بنانا منع ہے،دیکھو امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کو امام نہ بنایا جان دے دی لہذا ان کا وہ عمل اس حدیث کے خلاف نہیں ۔

۲؎  فقہاء فرماتے ہیں کہ فاسق کو امام بنانا منع لیکن اگر وہ امام بن چکا ہو تو اس کے پیچھے نماز جائز،اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ خیال رہے کہ یہاں فاسق سے مراد بدعمل ہے  نہ کہ بدمذہب لہذا قادیانی ،چکڑالوی،شیعہ امام کے پیچھے ہرگز نماز جائز نہیں، نیز  اگر فاسق نماز میں کوئی ایسی بدعملی کررہا ہے جس سے خود اس کی نماز مکروہ تحریمی ہورہی ہے اس کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں،جیسے کوئی سونا یا ریشم پہن کر یا داڑھی منڈائے،نیکر پہنے،گھٹنا کھولے نماز پڑھائے کیونکہ جو نماز مکروہ تحریمی فعل کے ساتھ ادا کی جائے اس کا لوٹانا واجب۔یہاں حدیث میں فاسق  سے مراد وہ ہے جو نماز میں فسق نہ کر رہا ہو جیسے جھوٹا یا غیبت کرنے والا آدمی کہ وہ یہ جرم نماز میں نہیں کرتا ۔

۳؎ یعنی مسلمان میت کیسا ہی گنہگار ہو اس کا جنازہ ضرور پڑھا جائے گا۔خیال رہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض میت کا جنازہ نہ پڑھا تاکہ لوگ قرض سے بچیں مگر صحابہ سے پڑھوادیا، آپ کا وہ عمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ چار شخصوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے: ڈاکو جو مقابلے میں مارا جائے ،ماں بآپ کا قاتل جب کہ قصاص میں مارا جائے،خناق یعنی خفیہ طور پر لوگوں کا گلا گھونٹ کر مار دینے والا،باغی جو جنگ میں مارا جائے۔(درمختار) اس مسئلے کا ماخذ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عمل شریف ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1126 -[10]

عَن عَمْرو بن سَلمَة قَالَ: كُنَّا بِمَاء ممر النَّاس وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ نَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ؟ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ الله أرْسلهُ أوحى إِلَيْهِ أَو أوحى الله كَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ حَقًّا فَقَالَ: «صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِين كَذَا وصلوا صَلَاة كَذَا فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فليؤذن أحدكُم وليؤمكم أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لَمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيص. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عمرو بن سلمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گھاٹ پر رہتے تھے ہم پر قافلے گزرتے تھے ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کے کیا حال ہیں اور ان صاحب کا کیا حال ہے ۲؎ وہ کہتے وہ فرماتے ہیں کہ اﷲ نے انہیں رسول بنایا انہیں فلاں فلاں وحی کی میں اس وحی کو یاد کرتا رہتا تھا گویا وہ میرے سینے میں پیوست ہوجاتی تھی۳؎ اہلِ عرب اسلام قبول کرنے میں فتح مکہ کے منتظر تھے کہتے تھے کہ انہیں ان کی قوم کے ساتھ چھوڑ دو  اگر وہ ان پر غالب آجائیں تو سچے نبی ہیں ۴؎ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوگیا تو ہر قوم اسلام لانے میں جلدی کرنے لگی میرے والد اپنی قوم کی طرف سے اسلام لانے جلدی پہنچے۵؎ جب آئے تو بولے خدا کی قسم میں سچے نبی کی طرف سے آرہا ہوں فرمایا کہ فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھا کرو جب وقت نماز آئے تو تمہارا کوئی اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن زیادہ یا د ہو ۶؎ انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن دان  کوئی نہ تھا کیونکہ میں قافلوں سے یاد کرتا رہتا تھا انہوں نے مجھے ہی آگے کردیا حالانکہ میں چھ یا سات سال کا تھا۷؎ مجھ پر ایک چادر تھی کہ جب میں سجدہ کرتا تو چڑھ جاتی(کھل جاتی)قبیلہ کی ایک عورت بولی کہ اپنے قاری کے چوتڑ کیوں نہیں ڈھکتے تب انہوں نے میرے لیئے قمیص خرید کر کٹوائی مجھے جتنی خوشی اس قمیص سے ہوئی اتنی کسی سے نہ ہوئی تھی۸؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To