Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ آپ صحابی ہیں،صرف ۲۰ روزحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے، بصرہ میں قیام ر ہا،  ۹۴ھ؁ میں،وہیں وفات پائی۔

۲؎  مالک ابن حویرث کو پوری حدیث نہ پہنچی،وہاں یہ تھا کہ ان کی بغیر اجازت امامت نہ کرے،اس لیے آپ نے اجازت کے باوجود نما ز نہ پڑھائی، یہ ہے صحابہ کا انتہائی تقویٰ،شارحین نے اس کے اور وجوہ بیان کیے ہیں مگر یہ وجہ بہت قوی ہے۔

1121 -[5]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاس وَهُوَ أعمى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو اپنا نائب کیا تاکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں حالانکہ اور وہ نابینا تھا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی جب آپ غزوۂ تبوک میں تشریف لے گئے،تو حضرت علی مرتضٰی  کو مدینہ منورہ کی حفاظت اہل وعیال کی نگہداشت دشمنوں کے انتظام کا خلیفہ بنا گئے اور عبداﷲ ابن ام مکتوم کو نماز کی امامت کا چونکہ علی مرتضیٰ اتنی ذمہ داریوں کے ہوتے امامت کے فرائض انجام نہیں دے سکتے تھے اس لیے آپ پر پابندی نہیں لگائی گئی اور چونکہ باقی لوگوں میں عبداﷲ ابن ام مکتوم کی برابر کوئی عالم نہ تھا اس لیے باوجود نابینا ہونے کے آپ کو امام بنایا گیا۔خیال رہے کہ حضرت ابن ام مکتوم کی امامت اتفاقی تھی مگر صدیق اکبر کی امامت اتفاقی نہ تھی وہاں تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس قوم میں ابوبکر ہوں وہاں کسی اور کو امامت کا حق نہیں لہذا صدیق اکبر کی امامت ان کی خلافت کی دلیل تھی،مگر یہ امامت خلافت کی دلیل  نہیں۔فقیر  کی اس تقریر سے اس حدیث پر سے حسب ذیل اعتراضات اٹھ گئے:(۱)یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر علی مرتضیٰ کو خلیفہ بنایا تھا یہ حدیث اس کے خلاف ہے۔(۲)علی مرتضیٰ جیسے فقیہ و عالم کی موجودگی میں انہیں امام کیوں بنایا گیا۔(۳)نابینا کی امامت مکروہ ہے پھر انہیں امام کیوں بنایا گیا۔(۴)معلوم ہوا کہ صدیق اکبر کو نماز کا امام بناناآپ کی خلافت کی دلیل نہیں،ورنہ ابن ام امکتوم بھی خلیفہ ہونے چاہئیں۔ خیال رہے کہ نابینا کی امامت مکروہ نہیں صرف خلاف اولیٰ ہے مگر جب نابینا عالم قوم ہو تو خلاف اولیٰ بھی نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو دوبارہ اپنا خلیفہ بنایا ہے،بعض نے فرمایا کہ اس امت میں عبس وتولیٰ والے واقعہ کا بدلہ کرنا مقصود تھا۔

1122 -[6]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں بڑھتی ۱؎ بھاگا ہوا غلام حتی کہ لوٹ آئے اور وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوند ناراض ہو۲؎  اور قوم کا امام کہ قوم اسے ناپسند کرے۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎  یعنی قبولیت تو کیا بارگاہ ِ الٰہی میں پیش بھی نہیں ہوتی جیسے دوسری نیکیاں پیش ہوتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ"۔چونکہ کان انسان کا سب سے قریب عضو ہے کہ اس سے ہی تلاوت کی آواز سنی جاتی ہے اس لیے اس کا ذکر ہوا۔

۲؎عورت کی بدخُلقی اور نافرمانی کی وجہ سے اور اگر بلاوجہ ناراض ہے تو عورت کا کوئی نقصان نہیں اور اگر ظلم مرد کی طرف سے ہے تو حکم برعکس ہوگا یعنی بغیرعورت کو راضی کئے مرد کی نماز قبول نہ ہوگی۔(لمعات مرقاۃ)

 



Total Pages: 519

Go To