$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ یعنی تمہارا یہ عمل رکعت اول پانے کی حرص پر ہے یہ حرص دینی ہے جو محمود ہے،خدا اسے بڑھائے ،دنیوی حرص بری رب فرماتا ہے، حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہونا نماز کو فاسد نہیں کرتا کیونکہ  آپ نے رکوع صف کے پیچھے اکیلے ہی کیا تھا مگر حضور نے آپ کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔دوسرے یہ کہ صف میں ملنے سے پہلے تکبیر تحریمہ اور رکوع کردینا مکروہ تنزیہی ہے تحریمی نہیں ور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نماز لوٹانے کا حکم دیتے۔ تیسرے یہ کہ نماز میں جانب قبلہ ایک دو قدم چلنا یا تین قدم بغیر لگاتار کیئے ڈالنا نماز فاسد نہیں کرتا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1111 -[6]

عَن سَمُرَة بن جُنْدُب قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا ثَلَاثَةً أَنْ يَتَقَدَّمَنَا أَحَدُنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک آگے بڑھ جائے ۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی جنگل یا گھر میں تین آدمی نماز پڑھنا چاہیں تو الگ الگ نہ پڑھیں بلکہ جماعت کرلیں اور امام دونوں مقتدیوں سے آگے کھڑا ہو ان کے برابر نہ کھڑا ہو۔ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے جو زیادہ عالم ہو وہ امام بنے۔

1112 -[7]

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ؟» فَقَالَ عَمَّارٌ: لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عمار سے کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کی امامت کی ۱؎ اور اونچی جگہ پر نماز پڑھانے کھڑ ے ہوگئے لوگ ان سے نیچے تھے ۲؎ حضر ت حذیفہ آگے بڑھے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا عمار ان کے پیچھے لگ گئے حتی کہ انہیں حذیفہ نے اتار دیا ۳؎ جب عمار نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے حذیفہ نے کہا کیا تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص قوم کی امامت کرے تو انکی جگہ سے اونچی جگہ نہ کھڑا ہو یا اس کی مثل،عمار نے کہا کہ اسی لیے تو جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا میں آپ کے پیچھے ہولیا ۴؎(ابوداؤد)

۱؎  آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے والد کا نام یاسر ہے،حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ رہے،صفین میں شہید ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا تھا کہ تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی،مدائن کوفہ کی جانب دجلہ کے کنارے بغداد شریف کے قریب ایک مشہور شہر ہے۔

۲؎  آپ اکیلے اوپر تھے باقی ساری جماعت نیچے،اگر کوئی مقتدی بھی اس جگہ  آپ کے ساتھ ہوتا تو کراہت نہ ہوتی۔

۳؎  غالب یہ ہے کہ حضرت حذیفہ صف اول میں تھے لیکن ابھی نماز کی نیت نہ باندھی تھی  آپ کو نیچے اتار کر نیت باندھی۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر نماز سے بیرونی آدمی نمازی کے حال کی اصلاح کرے تو قبول کرے ہاں اس کا لقمہ نہ لے ورنہ نماز جاتی رہے گی۔

۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمار نے یہ حدیث سنی تھی مگر اتفاقًا بھول گئے ہاتھ پکڑنے پر یاد آگئی، یہ ان حضرات کی بے نفسی ہے کہ نہ مسئلے بتانے میں جھجک کرتے ہیں نہ اس کے قبول کرنے میں عارو شرم۔خیال رہے کہ صرف امام کا مقتدیوں سے ایک ہاتھ اونچا کھڑا ہونا



Total Pages: 519

Go To
$footer_html