Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہ سارے عمل عمل قلیل کی حد تک ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی ہاتھ سے گھمایا، اور ایک ہی ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو پیچھے کیا اور یہ دونوں حضرات ایک یا دو قدم سے پیچھے پہنچے،اگر متواتر تین قدم ڈالتے تو ان کی نماز جاتی رہتی۔خیال رہے کہ دو مقتدیوں کا امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور پیچھے کھڑا  ہونا بہت بہتر ہے مگر تین کا پیچھے کھڑا ہونا واجب،برابر کھڑا ہونا سخت مکروہ کیونکہ تین پوری صف ہیں، اگر دو آدمی امام کے برابر کھڑے ہوں تو ایک دائیں کھڑا ہو دوسر ا بائیں جیسا کہ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت علقمہ اور اسود نے عبداﷲ بن مسعود کی اقتداء میں اس طرح نماز پڑھی کہ امام درمیان میں تھے اور یہ دونوں دائیں بائیں،یہ بیان جواز کے لیے تھا یا ضرورۃً۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ اس موقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مقتدیوں کو پیچھے کیا خود آگے نہ بڑھے کیونکہ آگے جگہ نہ تھی حجرے شریف کی دیوار تھی ورنہ ایسے موقعہ پر امام کا آگے بڑھ جانا سہل تر ہے۔

1108 -[3]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأم سليم خلفنا. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک یتیم نے اپنے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ نماز نفل تھی جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کے گھر میں عطائے برکت کے لیے پڑھی جیسا کہ اس زمانہ میں صحابہ کا دستور تھا۔یتیم یا تو حضرت انس کے بھائی کا نام ہے یا کوئی اور نابالغ یتیم تھا جس کا نام زمیرہ تھا ابن ہمام نے فرمایا کہ یہ زمیرہ ابن سعدی حمیری تھے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اکیلا نابالغ بچہ صف میں کھڑا ہوگا۔دوسرے یہ کہ عورت اگرچہ اکیلی ہو مگر مردوں اور بچوں سے پیچھے کھڑی ہوگی وہ تنہا ہی صف مانی جائے گی۔

1109 -[4]

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ قَالَ: فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے انہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ماں یا خالہ کو نماز پڑھائی فرماتے ہیں تو مجھے اپنے دائیں کھڑا کیا اور عورت کو ہمارے پیچھے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ یہاں یتیم کا ذکر نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایک مرد اور ایک عورت امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو مرد امام کے ساتھ ہوگا، اور عورت پیچھے  اگرچہ عورت مرد کی محرم ہو۔

1110 -[5]

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ. فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تعد» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے حالانکہ  آپ رکوع میں تھے تو انہوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے رکوع کردیا پھر صف تک چلے ۱؎ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو فرمایا اﷲ تمہاری حرص بڑھائے دوبارہ ایسا نہ کرنا ۲؎(بخاری)

۱؎  بات یہ تھی کہ  آپ کو رکعت جاتے رہنے کا خطرہ تھا اس لیے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع کردیا،پھر رکوع میں ہی یا قومہ میں ایک دو قدم سے صف تک پہنچے، اور اگر تین قدم سے پہنچے تو وہ قدم لگاتار نہ تھے ورنہ  آپ کی نماز نہ ہوتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز لوٹانے کا حکم دیتے۔

 



Total Pages: 519

Go To