Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎  یعنی یہ سترہ کے پیچھے سےگزرے اس کی پرواہ نہ کرے۔ خیال رہے کہ اگر نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو اتنی دور پر سامنے سے گزرنا ناجائز ہے جہاں کی چیز نمازی کو سجدہ گاہ پر نظر رکھتے ہوئے محسوس ہوجائے۔

776 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي جهيم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ» . قَالَ أَبُو النَّضر: لَا أَدْرِي قَالَ: «أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَو سنة»

روایت ہے حضرت ابوجحیم سے  ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اسے چالیس تک ٹھہرنا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا ابونصر کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  آپ صحابی ہیں، ابی ابن کعب کے بھانجے، آپ کا نام عبداﷲ ابن حارث ابن صمہ انصاری ہے، امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ چالیس سال فرمایا ہوگا جیسا کہ بعض روایا ت میں ہے۔ مطلب اس کا ظاہر ہے۔چالیس کا عدد اس لیئے ارشاد فرمایا کہ انسان کا ہر حال چالیس پر ہی تبدیل ہوتا ہے ،ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ، پھر چالیس دن تک خون ،پھر چالیس دن تک جمی بوٹی، پھر پیدائش کے بعد چالیس دن تک ماں کو نفاس،پھر چالیس سال تک عمر کی پختگی اس لیئے بعد وفات چالیس روز تک مسلسل فاتحہ کی جاتی ہے اور چالیسویں کی فاتحہ اہتمام سے ہوتی ہے۔

777 -[6]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلمُسلم مَعْنَاهُ

روایت ہے ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ جب تم میں سے کوئی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھے   ؎  جو اسے لوگوں سے چھپالے ۱؎ پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی اسے دفع کرے ۲؎ پھر اگر نہ مانے تو اس سے جنگ کرے کہ وہ شیطان ہے ۳؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم میں اس کے معنی ہیں۔

۱؎  یعنی اس کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بن جائے پورا چھپانا مراد نہیں کیونکہ ایک ہاتھ کا سترہ پورے جسم کو نہیں چھپا سکتا۔

۲؎  یعنی عمل قلیل سے ہاتھ کے ساتھ اسے ہٹادے گزرنے نہ دے۔ ظاہر یہ ہے کہ اَحَدٌ میں بچہ اور دیوانہ بھی داخل ہے ان کو بھی گزرنے سے روکا جائے، یہاں سامنے گزرنے سے مراد ہے ستر ے اور نمازی کے درمیان گزرناکہ یہی ممنوع ہے۔

۳؎ یعنی سختی سے اسے روکے،یہاں لڑنا بھڑنا اور قتل کرنا مراد نہیں۔ مرقات نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی جاہل نمازی اسے قتل کردے تو عمدًا قتل میں قصاص واجب ہوگا اور خطا میں دیت۔خیال رہے کہ اگر نمازی بغیر سترے  راستہ میں نماز پڑھ رہاہے تو اسے گزرنے والے کو روکنے کا حق نہ ہوگا کہ اس میں قصور نمازی کا ہے اسی لیے یہاں سترے کی قید لگائی۔ شیطان سے مراد یا تو اصطلاحی شیطان ہے یعنی جنات کا مورث اعلیٰ تب تو یہ مطلب ہوگا کہ اسے شیطان بہکا کر ادھر لارہا ہے اور اس پر شیطان سوار ہے اور یا شیطانوں سے انسانوں کا شیطان مراد ہے جو شیطانوں کا سا کام کرے وہ شیطان ہی ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی شیطانی کام کرنے والے انسانوں کو خناس فرمایا ہے کہ ارشاد فرمایا:"الَّذِیۡ یُوَسْوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ  مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ"۔اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ دینی کاموں میں خلل ڈالنے والا سخت مجرم ہے لہذا جو لوگ مسجدوں کے پاس شور مچائیں،ریڈیو کے گانے لگائیں وہ اس سے عبرت پکڑیں



Total Pages: 519

Go To