Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1091 -[7]

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنَا حلقا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟» ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ:«أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفّ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے تو ہمیں حلقہ حلقہ دیکھا فرمایا کیا ہے میں تمہیں متفرق دیکھتا ہوں ۱؎ پھر ہم پر تشریف لائے تو فرمایا کہ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے اپنے رب کے نزدیک بناتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ فرشتے رب کے نزدیک کیسے صفیں بناتے ہیں  فرمایا اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی ہم مسجد میں الگ الگ حلقے بنائے بیٹھے تھے ہرشخص اپنے دوستوں کے ساتھ الگ حلقے میں تھا تب آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مسجدوں میں یہ امتیازات مٹا دو، یہ واقعہ جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے پیش آیاتھا جیسا کہ باب الجمعہ میں آئے گا۔خیال رہے کہ عزین جمع عِزَّۃٌ کی ہے،بمعنی جماعت۔

۲؎  یعنی مسجد میں صفیں بنا کر بیٹھا کرو تاکہ تم فرشتوں کے مشابہ ہوجاؤ۔ خیال رہے کہ ملائکہ مقربین تو ہمیشہ سے صفیں باندھے رب کی عبادتیں کررہے ہیں اور مدبرات امر اپنی ڈیوٹیوں سے فارغ ہو کر صفیں بناکر عبادتیں کرتے ہیں،بعض زمیں پر، بعض آسمان پر،بعض عرش اعظم کے پاس جس کی تحقیق ان شاءاﷲ آیندہ کی جائے گی۔

1092 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وشرها أَولهَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مَردوں کی بہترین صف پہلی ہے اور بدترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور بدترین صف اگلی ۱؎(مسلم)

۱؎ کیونکہ مردوں کی پہلی صف امام سے قریب ہوگی، اس کے حالات دیکھے گی،اس کی قرأت سنے گی،عورتوں سے دور رہے گی اور عورتوں کی آخری صف میں پردہ حجاب زیادہ ہوگا،مردوں سے دور ہوگی،بعض منافقین آخری صف میں کھڑے ہوتے اور بحالت رکوع جھانکتے تھے ہوسکتا ہے کہ یہاں ان کی طرف اشارہ ہو،اس صورت میں لفظ شرّ اپنے ظاہری معنی پر ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1093 -[9]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صفیں سیدھی کرو ۱؎  ان میں نزدیکی کرو ۲؎ اپنی گردنیں مقابل رکھو ۳؎ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں شیطان کو صفوں کی کشادگی میں بکری کے بچے کی طرح گھستا دیکھتا ہوں ۴؎(ابوداؤد)

۱؎  رَصُّوْا رَصٌ سے بنا جس کے معنی ہیں سیدھا کرکے ملانا،معنی یہ ہوئے کہ نماز کی صفیں سیدھی بھی رکھو اور ان میں مل کر کھڑے ہو کہ ایک دوسرے کے آپس میں کندھے ملے ہوں۔

۲؎  یعنی صفیں قریب قریب رکھو اس طرح کہ دو صفوں کے درمیان اور صف نہ بن سکے یعنی صرف سجدہ کا فاصلہ رکھو،نماز جنازہ میں چونکہ سجدہ نہیں ہوتا اس لیے وہاں صفوں میں اس سے بھی کم فاصلہ چاہیئے۔

 



Total Pages: 519

Go To