Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب تسویۃ الصف

صف سیدھی کرنے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ صف سیدھی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نمازی صف میں ملے ملے کھڑے ہوں نہ آگے پیچھے ہوں،نہ دور  دور  جس سے صف میں کشادگی ہو،صف کا ٹیڑھا ہونا نمازیوں میں ٹیڑھا پن پیدا کرتا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

1085 -[1]

عَن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ أَنْ يُكَبِّرَ فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَقَالَ:«عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سیدھی صفیں کرتے تھے یہاں تک کہ گویا ان سے تیر سیدھے لیے جائیں گے ۲؎ حتی کہ آپ نے خیال فرمالیا کہ اب ہم آپ سے سیکھ چکے ۳؎ پھر ایک دن تشریف لائے تو کھڑے ہوئے حتی کہ تکبیر کہنے والے ہی تھے کہ ایک شخص کو سینہ نکالے دیکھا تو فرمایا کہ اﷲ کے بندو اپنی صفیں سیدھی کرو ورنہ اﷲ تعالٰی تمہاری ذاتوں میں اختلاف ڈال دے گا ۴؎(مسلم)

۱؎ آپ انصاری ہیں اور نو عمر صحابی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے چودہ مہینہ بعد پیدا ہوئے ،بعد ہجرت انصار میں سب سے پہلے آپ پیدا ہوئے اور مہاجرین میں عبداﷲ ابن زبیر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے وقت ان کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی۔

۲؎  یعنی نمازیوں کے کندھے پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجاوے۔ خیال رہے کہ تیر کی لکڑی کو پَر اور پیکان لگنے سے پہلے قدح کہتے ہیں اور اس کے لگنے کے بعد سہم ،قدح نہایت سیدھی کی جاتی ہے اسے سیدھا کرنے کے لیے نہایت سیدھی لکڑی لیتے ہیں، جس کے برابر قدح کو لیتے ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے جیسے قدح سیدھی کرنے والی لکڑی ۱۲

۳؎  تب آپ نے کندھے پکڑ کر سیدھا کرنا چھوڑ دیا،صرف زبان شریف سے سیدھا کرنے کی ہدایت فرمادیتے تھے ۱۲

۴؎ یعنی اگر تمہاری نماز کی صفیں ٹیڑھی رہیں تو تم میں آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا ہوجائیں گے،شیرازہ بکھر جائے گا یا تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے کہ ان میں سوز و گداز،درد،خشوع خضوع نہ رہے گا یا اندیشہ ہے کہ تمہاری صورتیں مسخ ہوجائیں جیسے گزشتہ قوموں پر عذاب آئے تھے،یعنی یہاں وجہ بابمعنی ذات ہے یا بمعنی چہرہ۔ خیال رہے کہ عام مسخ وغیرہ ظاہر عذاب حضور مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بند ہوگئے لیکن خاص مسخ وغیرہ اب بھی ہوسکتے ہیں۔

1086 -[2]

وَعَن أنس قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: «أَتِمُّوا الصُّفُوف فَإِنِّي أَرَاكُم من وَرَاء ظَهْري»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ انور سے ہم پر توجہ فرمائی فرمایا کہ اپنی صفیں سیدھی کرو اور مل کر کھڑے ہو میں تمہیں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ۱؎(بخاری)اور مسلم بخاری میں ہے کہ فرمایا صفیں پوری کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت سے دیکھتا ہوں۔

 



Total Pages: 519

Go To