Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎  یہ جگہ جنت معلی سے کچھ آگے منی کی جانب ہے جسے وادی مُحَصَّبْ اور بطحاءبھی کہا جاتا ہے،اسی نسبت سے حضور کو ابطحی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے،ابطح کے معنی ہیں بجری والا میدان جہاں بارش میں سیلاب آجاتا ہو۔

۳؎  یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے خیمہ میں وضو کیا،غسالہ ایک لگن میں گرا حضرت بلال وہ پانی کا لگن باہر صحابہ کے پاس لائے تاکہ صحابہ اس سے برکتیں حاصل کرلیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس غسالہ شریف پر ٹوٹ پڑے۔

۴؎ اسے حاصل کرنے اور برکت لینے کے لیے کیوں کہ وہ پانی حضور کے اعضاء سے لگ کر نورانی بھی ہوگیا اور نور گر بھی۔پھول سے لگی ہوئی ہوا دماغ مہکادیتی ہے، حضور کے جسم اطہر سے لگا ہوا پانی روح وا یمان مہکادے گا۔

۵؎ اور اسے اپنے سر اور منہ پر مل لیا۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے حضور کی فصد لی اور خون بجائے پھینکنے کے پی لیا۔خیال رہے کہ ہمارا فضلہ وضو کا پینے کے قابل نہیں کہ وہ ہمارے گناہ لے کر نکلا ہے، حضور کا غسالہ متبرک ہے کیونکہ وہ نور لے کر نکلا۔بعض مرید اپنے مشائخ کا جوٹھا پانی تعظیم سے استعمال کرتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

۶؎ سرخ جوڑے سے مراد خالص سرخ رنگ میں رنگا ہوا کپڑا نہیں ہے کہ یہ تو مرد کےلیے منع ہے بلکہ سرخ خطوط سے مخطط کپڑا مراد ہے یا سرخ سُوت سے بنا ہوا کپڑا۔لہذا یہ حدیث ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔

۷؎ یا فجر یا ظہر کی کیونکہ آپ مسافر تھے،غالبًا یہ واقعہ حجۃ الوداع یا عمرۃ القضاء کا ہے۔

۸؎ کیونکہ امام کا سُترہ ساری جماعت کا سترہ ہوتا ہے اس کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔

774 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيصَلي إِلَيْهَا. وَزَادَ الْبُخَارِيُّ قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ. قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخرته

روایت ہے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی سواری کو سامنے کرلیتے پھر اس کی طرف نماز پڑھ لیتے  ۱؎(مسلم،بخاری)بخاری نے یہ بھی زیادہ کیا میں نے کہا بتاؤ تو اگر سواری چل دیتی فرمایا کجاوے کو درست کرلیتے تھے پھر اس کی پشتی کی طرف نماز پڑھتے۲؎

۱؎  اس طرح کہ بیٹھے ہوئے اونٹ کے سامنے نماز پڑھتے تاکہ لوگ اس طرف سے گزر سکیں۔ معلوم ہوا کہ سترہ صرف لکڑی وغیرہ کا ہی نہیں ہوتا بلکہ جانور اور انسان کا بھی ہوجاتا ہے۔

۲؎  یعنی نافع نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ نماز کی یہ صورت خطرناک ہے اگر دوران نماز میں اونٹ اٹھ کر چل دے تو نمازی کیا کرےتو فرمایا سرکار پہلے سے اس کا انتظام کرلیتے تھے جس سے اونٹ نہ جاسکے۔آخرہ اور موخرہ کجاوے کی وہ پچھلی لکڑی ہے جس سے سوار پیٹھ ٹیک لیتا ہے۔یہ ایک ہاتھ یعنی ڈیڑھ فٹ ہوتی ہے اسے ہمارے عرف میں اونٹ والے پشتی کہتے ہیں۔

775 -[4]

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَليصل وَلَا يبال من مر وَرَاء ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے کجاوے کو پشتے کی طرح رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور سامنے  سےگزرنے والوں کی پرواہ  نہ کرے  ۱؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To