Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1070 -[19]

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمَّنَّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ. وَلَا يَنْظُرْ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وللترمذي نَحوه

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین کام وہ ہیں جو کسی کو کرنا جائز نہیں ایسا شخص قوم کی امامت ہرگز نہ کرے کہ دعا میں اپنے آپ کو خاص کرے انہیں چھوڑ کر ۱؎ اگر ایسا کیا تو ان کی خیانت کی اور اجازت سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے اگر ایسا کیا تو ان کی خیانت کی ۲؎ اور پیشاب پاخانے سے بھاری آدمی نماز نہ پڑھے حتی کہ ہلکا ہوجائے۔ (ابوداؤد)ترمذی نے اس کی مثل ۔

۱؎ یعنی نماز کے بعد صرف اپنے لئے دعا کرے یا اس طرح کہ صاف کہے کہ خدایا مجھ پر رحم کر نہ کہ کسی اور پر یا اس طرح کہ ساری دعاؤں میں واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرے کوئی صیغہ جمع کا نہ بولے،امام کے لیے یہ دونوں کام سخت منع ہیں ہاں اگر بعض دعائیں جمع کے صیغہ سے مانگے اور بعض واحد کے صیغہ سے تو مضائقہ نہیں(مرقاۃ)لہذا اگر ایک دعا بھی جمع کے صیغہ سے مانگی باقی واحد کے صیغوں سے تو حرج نہیں چنانچہ امام یہ دعا مانگ سکتا ہے "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ"یا یہ دعا "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ حُبَّكَ"الخ کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعائیں سکھائی ہیں اور منقول دعاؤں میں الفاظ کی پابندی ہوتی ہے۔خیا ل رہے کہ امام ساری قوم کی نمازوں اور دعاؤں کا امین ہے اسی لیے ایسے امام کو خائن کہا گیا۔

۲؎ گھر سے مراد عام گھر ہیں خواہ اس میں آدمی رہتے ہوں یا کسی کا سامان موجود ہو۔

1071 -[20]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُؤَخِّرُوا الصَّلَاةَ لِطَعَامٍ وَلَا لغيره» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز کو کھانے وغیرہ کی وجہ سے دیر نہ لگاؤ ۱؎

۱؎ اس کے تین مطلب ہوتے ہیں: ایک یہ کہ کھانے کی تیاری کے انتظار میں نماز میں دیر مت کرو، دوسرے یہ کہ کھانے کی وجہ سے قضا نہ کردو لہذا اگر کھانا سامنے ہو مگر نماز کا وقت جارہا ہو تو نماز پہلے پڑھو، تیسرے یہ کہ حکم اس کے لیے ہے جسے بھوک نہ لگی ہو اور نماز میں اسے کھانے کا دھیان نہ آئے  لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں  جہاں فرمایا گیا کہ جب کھانا اور نماز حاضر ہوں تو پہلے کھانا کھاؤ۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1072 -[21]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ وَفِي رِوَايَة: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فليحافظ على هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شرع لنبيكم صلى الله عَلَيْهِ وَسلم سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً ويحط عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَام فِي الصَّفّ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے صحابہ کو اس طرح دیکھا ہے کہ نماز کے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم ہو یا بیمار ۱؎ بیمار بھی دو شخصوں کے درمیان چلتا حتی کہ نماز میں آتا ۲؎ آپ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنت ہدی سکھائیں اور سنت ہدی میں سے اس مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان ہو۳؎ اور ایک  روایت میں ہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ کل اﷲ سے مسلمان ہو کر ملے تو وہ ان پانچ نمازوں پر وہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے۴؎ کیونکہ اﷲ نے تمہارے نبی کے لیے سنت ہدی مشروع کیں اور یہ نمازیں بھی سنت ہدیٰ سے ہیں ۵؎ اور اگر تم اپنے گھر وں میں  نماز پڑھ لیا کرو جیسے کہ یہ پیچھے رہنے والے گھر میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے اور اگر اپنے نبی کی سنت چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے ۶؎ ایسا کوئی شخص نہیں جو خوب طہارت کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرے مگر اﷲ اس کے لیئے ہر قدم کے عوض جو ڈالتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے ۷؎ ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ نماز سے وہ منافق ہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معلوم ہو، بعض آدمیوں کو دو شخصوں کے درمیان لایا جاتا تھا حتی کہ صف میں کھڑا کیا جاتا ۸؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To