$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب السترۃ

سُترہ کا بیان(آڑ)  ۱ ؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ سترہ سُترٌ سے بنا ہے،بمعنی ڈھانپنا۔سترہ کے لغوی معنی ہیں چھپانے والی چیز یعنی آڑ۔شریعت میں سترہ وہ چیز ہے جو نمازی اپنے سامنے رکھے تاکہ اس سترہ کے پیچھے سے لوگ گزرسکیں ، اس کی لمبائی کم از کم ایک ہاتھ(۲/۱ ۱ فٹ)اور موٹائی ایک انگل چاہیے۔ بغیر  سترہ نمازی کے آگے سے گزرنا حرام مگر حرم شریف کی مسجد میں جائز ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اگر صف اول میں لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ ی ہو تو بعد میں آنے والا صفوں کے سامنے سے گزرتا ہوا وہاں پہنچے اور جگہ پر کرے کیونکہ اس میں قصور جماعت والوں کا ہے نہ کہ اس کا۔

772 -[1]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلَّى بَيْنَ يَدَيْهِ فَيصَلي إِلَيْهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  صبح کے وقت عید گاہ تشریف لے جاتے ۱؎  آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا اور آپ کے آگے عید گاہ میں گاڑ دیا جاتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اس کی طرف نماز پڑھتے۲؎(بخاری)

۱؎  نماز عیدین کے لیے عیدالاضحی کے لیے بہت جلدی تاکہ بعد میں  قربانیاں کی جاسکیں اور عید الفطر میں کچھ دیر سے تاکہ مسلمان کچھ کھا کر اور فطرہ ادا کرکے آسانی سے پہنچ سکیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عید کی نماز جنگل میں پڑھنا سنت ہے اگرچہ شہر میں بھی جائز ہے۔

۲؎  تاکہ گزرنے والوں کو سامنے سے گزرنے میں رکاوٹ نہ ہو اس زمانہ میں عید گاہ کی عمارت نہ تھی، میدان میں نماز پڑھی جاتی تھی۔

773 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّهٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يبتدرون ذَاك الْوَضُوءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمن لم يصب مِنْهُ شَيْئا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْت النَّاس وَالدَّوَاب يَمرونَ من بَين يَدي العنزة

روایت ہے ابن ابی جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو مکے کے ابطح مقام میں۲؎ چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا اور حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے حضور کے وضوء کا پانی لیا ۳؎ اور لوگوں کو دیکھا اس پانی کی طرف دوڑ رہے ہیں۴؎جس نے اس میں سے کچھ پالیا تو اسے مَل لیا اور جس نے نہ پایا تو اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری ۵؎لے لی پھر میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھاانہوں نے ایک نیزہ لیا اور اسے گاڑ دیا اور نبی صلی اللہ  علیہ  وسلم سرخ جوڑے میں دامن سمیٹے تشریف ۶؎ لائے نیزے کی طرف کھڑے ہو کرلوگوں کو دو  رکعتیں پڑھائیں۷؎ اور میں نے لوگوں اور جانوروں کو نیزے کے آگے گزرتے دیکھا ۸؎(مسلم، بخاری)

۱؎  آپ کا نام وہب ابن عبداﷲ عامری ہے،آپ  بہت نو عمر صحابی ہیں،حضور کی وفات کے وقت آپ نابالغ تھے،  ۷۴ھ ؁کوفہ میں وصال ہوا۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html