Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1059 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَة أحدكُم إِلَى الْمَسْجِد فَلَا يمْنَعهَا»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد آنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا جب عورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت تھی، عہد فاروقی سے اس کی ممانعت کردی گئی کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا، اب فی زمانہ عورتوں کو باپردہ مسجد وں میں آنے اور علیٰحدہ بیٹھنے سے نہ روکا جائے،کیونکہ اب عورتیں سینماؤں،بازاروں میں جانے سے تو رکتی نہیں، مسجدوں میں آکر کچھ دین کے احکام سن لیں گی،عہد فاروقی میں عورتوں کو مطلقًا گھر سے نکلنے کی ممانعت تھی۔

1060 -[9]

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تمس طيبا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے زینب زوجہ عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتی ہیں کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو خوشبو نہ لگائے ۱؎(مسلم)

۱؎ کیونکہ یہ فتنہ کا سبب ہے ایسے ہی چمکدار اور خوبصورت برقعہ پہن کر نہ آوے لوگوں کے درمیان نہ چلے سڑک کے کنارے دیوار سے ملی ہوئی جائے۔

1061 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعشَاء الْآخِرَة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو عورت دھونی کی خوشبو لے وہ ہمارے ساتھ دوسری عشاء میں حاضر نہ ہوئے ۱؎(مسلم) 

۱؎ کیونکہ اس وقت اندھیرا ہوتا ہے،فساد کا خطرہ زیادہ ہے۔معلوم ہوا کہ اس زمانے میں بھی عورتوں کو نہایت سخت پابندیوں کے ساتھ مسجد وں میں آنے کی اجازت تھی حالانکہ وہ زمانہ خیر تھا،دھونی کی خوشبو کپڑوں میں نہایت معمولی بستی ہے مگر اس پر بھی انہیں نکلنے سے منع کیا گیا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1062 -[11]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اپنی بیویوں کو مسجدوں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی اس زمانہ میں بھی عورتوں کے لیے گھر میں ہی نماز افضل قرار دی گئی اگرچہ  مسجدوں میں آنا جائز تھا اس حکم سے حج و عمرہ کا طواف مستثنٰی تھا۔(مرقاۃ)

1063 -[12]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی نماز اپنے گھر میں صحن میں نماز سے افضل ہے ۱؎ اور اس کی نماز کوٹھڑی میں،گھر میں نماز سے افضل ہے ۲؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To