Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب الجماعۃ وفضلہا

جماعت اور اس کی فضیلت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یعنی جماعت کے آداب و احکام اور اس کی زیادتی ثواب کا ذکر۔خیال رہے کہ جمعہ اور عیدین کے لیے جماعت فرض ہے،تہجد وغیرہ نوافل کے لیے اہتمام سے جماعت مکروہ،نماز پنجگانہ کے لیے حق یہ ہے کہ جماعت واجب۔ جن لوگوں نے فرمایا سنت ہے ان سب کا مطلب یہ ہے کہ سنت سے ثابت ہے،بعض علماء نے فرض عین مانا بعض نے فرض کفایہ۔یہ بھی خیال رہے کہ جماعت علیٰحدہ چیز ہے اور مسجد کی حاضری علیٰحدہ، یہ بھی ضروری ہے۔اس کے باقی احکام کتب فقہ میں دیکھو۱۲

1052 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاة الْفَذ بِسبع وَعشْرين دَرَجَة»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جماعت کی نماز اکیلی نماز پر ستائیس درجے افضل ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  بعض روایات میں ۲۵ ہے اور بعض میں ۵۰ یہ اختلاف جماعت کی زیادتی کمی اور نمازیوں کے تقویٰ و طہارت کی بناء پر  ہوسکتا ہے،بڑی جماعت کا ثواب بڑا اور عالم و متقی امام کے پیچھے ثواب زیادہ ہے۔

1053 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَلمُسلم نَحوه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو جمع کی جائیں پھر نمازکا حکم دوں کہ اس کی اذان دی جائے پھر کسی کوحکم دوں وہ لوگوں کی امامت کرے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں ۱؎ جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ۲؎ ان کے گھر جلادوں ۳؎  اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کُھر پائے گا تو عشاء میں ضرور آتا ۴؎(بخاری)اور مسلم کی روایت اس کی مثل ہے۔

۱؎ یعنی نماز کی جماعت قائم کرا کر خود تحقیقات کے لیے محلے میں جاؤں۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام اور سلطان دینی ضرورت کے وقت جماعت چھوڑ سکتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تشریف لے جانا تبلیغ کے لیے ہوتا۔

۲؎ یعنی بلاعذر،لہذا اس سے چھوٹے بچے،عورتیں معذور بیمار علیٰحدہ ہیں۔ یہاں روئے سخن منافقین کی طرف ہے کیونکہ کوئی صحابی بلاوجہ جماعت اور مسجد کی حاضری نہیں چھوڑتے تھے۔ لہذا روافض کا یہ کہنا کہ صحابہ فاسق یا تارک جماعت تھے  غلط ہے، رب نے ان کے تقویٰ اور جنتی ہوئے کی گواہی دی اگر یہاں صحابہ مراد ہوں تو حدیث قرآن کے خلاف ہوگی ۱۲

 



Total Pages: 519

Go To