Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے کہ وہاں طلو ع وغروب سے مراد صرف نکلنا وڈوبنا نہ تھا بلکہ اس سے بعد اور پہلے کا کچھ وقت بھی تھا۔خیال رہے کہ ٹھیک دوپہر شریعت میں نماز شرعی گیارہ بجے ہوا اور نہار نجومی کے نصفوں کا فاصلہ ہے مثلًا آج نصف النہار شرعی گیارہ بجے ہوا اور نصف النہار نجومی پونے بارہ بجے تو یہ  پینتالیس۴۵ منٹ بیچ دوپہر ہیں ان میں نماز مکروہ۔شرعی دن پوپھٹنے سے شروع ہوتا ہے اور نجومی دن سورج چمکنے سے اور دونوں غروب آفتاب پرختم ہوجاتے ہیں۔

1041 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک کوئی نماز نہیں اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی نماز فجر اور نماز عصر پڑھ لینے کے بعد نوافل ممنوع ہیں اور سورج چمکنے اور پیلا پڑنے کے بعد ہر نماز ممنوع جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا یہ حدیث ہر جگہ کے لیے ہے لہذا احناف کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں ان وقتوں میں مکہ مکرمہ میں بھی نوافل مکروہ ہیں۱۲ 

1042 -[4]

وَعَن عَمْرو بن عبسة قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: «صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أقصر عَن الصَّلَاة حَتَّى تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلَعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يسْجد لَهَا الْكفَّار» قَالَ فَقلت يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ: «مَا مِنْكُم رجل يقرب وضوءه فيتمضمض ويستنشق فينتثر إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيِهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے  ۱؎  فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں بھی مدینے آیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ مجھے نماز کے متعلق خبر دیجئے ۲؎ تو فرمایا کہ نماز فجر پڑھو پھر آفتاب نکلتے وقت نماز سے باز رہو حتی کہ بلند ہوجائے کیونکہ وہ نکلتے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت اسے کفار سجدہ کرتے ہیں ۳؎ پھر نماز پڑھو کیونکہ وہ نماز حاضری یا گواہی کا وقت ہے ۴؎ یہاں تک کہ نیزے کا سایہ کم ہوجائے ۵؎ پھر نماز سے باز رہو کیونکہ اس وقت دوزخ جھونکا جاتا ہے ۶؎ پھر جب زوال کا سایہ آگے ہوجائے تو نماز پڑھو ۷؎ کیونکہ یہ نماز حاضری اور گواہی کا وقت ہے حتی کہ عصر پڑھ لو پھر سورج ڈوبنے تک نماز سے باز رہو کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے ۸؎ اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی اﷲ مجھے وضوء کے متعلق خبر دیجئے تو فرمایا کوئی ایسا شخص نہیں جو وضو کا پانی لے پھر کلی کرے ناک میں پانی ڈالے مگر اس کے چہرے اور منہ اور نتھنوں کی خطائیں گر جاتی ہیں ۹؎ پھر جب اسی طرح اپنا منہ دھوئے جیسے اسے اﷲ نے حکم دیا ۱۰؎ مگر اس کے چہرے کی خطائیں داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ پوروں سے گر جاتی ہیں،پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوئے مگر اس کے ہاتھوں کی خطائیں پانی کے ساتھ گر جاتی ہیں،پھر اپنے سر کا مسح کرے مگر اس کے سر کی خطائیں پانی کے ساتھ بالوں کے کناروں سے گر جاتی ہیں ۱۱؎ پھر اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوئے مگر اس کے پاؤں کی خطائیں پانی کے ساتھ پوروں سے گرجاتی ہیں پھر اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو اﷲ کی وہ حمد و ثناء اور بڑائی کرے جس کے وہ لائق ہے اور اپنا دل اﷲ کے لیے خالی کرے مگر اپنی خطاؤں سے اس دن کی طرح پھرے گا جس دن اسے ماں نے جنا ۱۲؎(سلم)

 



Total Pages: 519

Go To