$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب اوقات النھی

ممانعت کے وقتوں کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یعنی جن وقتوں میں نماز منع ہے۔خیال رہے کہ تین وقت وہ ہیں جن میں فرض نفل ہر نماز منع ہے:طلوع آفتاب،غروب اور نصف النہار(بیچ دوپہری)پانچ وقت وہ ہیں جن میں فرض جائز،نفل منع:صبح صادق سے سورج نکلنے تک،نماز عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے تک،پھر آفتاب ڈوبنے کے بعد سے مغرب کے فرض پڑھنے تک،جمعہ کے خطبہ کے وقت،عید کے دن نماز عید سے پہلے،یہ کراہت ہر جگہ ہے مکہ معظمہ میں بھی اور دیگر مقامات میں بھی۱۲

1039 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فدعوا الصَّلَاة حَتَّى تبرز. فَإِذا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تطلع بَين قَرْني الشَّيْطَان»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی قصد نہ کرے کہ سورج نکلنے کے وقت اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب سور ج کا کنارہ چمک جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ بلند ہوجائے ۲؎ پھر جب سورج کا کنارہ چھپ جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ پورا غائب ہوجائے اور اپنی نماز کے لیے سورج کے طلوع غروب کا وقت مقرر نہ کرو،کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ میں طلوع ہوتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ سورج نکلنے سے مراد اس کے چمکنے سے بلند ہونے تک کا وقت ہے یعنی چمکنے سے بیس منٹ بعد تک اور ڈوبنے سے مراد پیلا پڑنے سے چھپنے تک کا وقت یعنی چھپنے سے بیس منٹ پہلے ہے جیسا کہ اور روایات میں ہے ۱۲

۲؎  کنارہ مشرق سے ایک نیزہ بلند ہو کر اس میں تیزی آجائے کہ اتنے عرصہ میں ہر نماز ممنوع ہے ۱۲

۳؎  اس طرح کہ ایک شیطان سورج کے ساتھ گردش کرتا رہتا ہے ہر جگہ سورج کا طلوع اس کے سینگوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔اس کی تحقیق "اوقات نماز"کے باب میں گزر گئی۱۲ 

1040 -[2]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينهانا أَن نصلي فِيهِنَّ أَو نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تغرب. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین وقتوں میں نماز پڑھنے اور مردے دفن کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎ جب سورج ظاہر ظہور طلوع ہورہا ہو حتی کہ بلند ہوجائے اور جب ٹھیک دوپہری قائم ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوجائے حتی کہ ڈوب جائے ۲؎(مسلم)

۱؎ تمام علماء کے نزدیک یہاں دفن سے مراد نماز جنازہ ہے کیونکہ ان وقتوں میں دفن کرنے کو کوئی منع نہیں کرتا اور ان اوقات میں نماز جنازہ بھی جب ہی مکروہ ہوگی جب کہ جنازہ پہلے سے تیار ہو اور نماز میں دیر کی جائے لیکن اگر جنازہ آیا ہی اس وقت ہے تو نماز پڑھ لے۱۲

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html