Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1033 -[11]

وَعَن ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَده. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال آیت سجدہ پڑھی سب لوگوں نے سجدہ کیا  ۱؎ ان میں سوار اور زمین پرسجدہ کرنے والے حتی کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کرتا تھا ۲؎

۱؎  یہ واقعہ سورۂ وَالنَّجْم پڑھنے کے علاوہ ہے کیونکہ آج مکہ معظمہ میں کوئی مشرک نہ تھا اور وہاں مشرکین مکہ نے بھی سجدہ کیا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت سوار اپنے ہاتھ پر کرسکتا ہے اترنا ضروری نہیں یہی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔

۲؎  یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں گیارہ سجدے ہیں کیونکہ چودہ سجدوں میں سے جب مفصل کے تین سجدے نکل گئے تو گیارہ باقی بچے،مگر یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ابوقدامہ بصری ہیں جو ضعیف ہیں(نووی)نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث قوی ہے جس میں ہے کہ ہم نے حضور انور صلے اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اِنْشَقَّتْ اور اِقْرَأ  میں سجدہ کیا۔حضرت ابوہریرہ بعد ہجرت یعنی    ۷ھ؁ میں ایمان لائے،ابھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث گزری کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سورۂ وَالنَّجْم پڑھی اور سب نے سجدہ کیا،نیز یہ حدیث نافی ہے اور وہ حدیث مثبت جب ثبوت ونفی میں تعارض ہو تو ثبوت کو ترجیح ہوتی ہے۔بہرحال یہ حدیث قابل عمل نہیں مفصل میں تین سجدے ہیں "وَالنَّجْمِ،اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ،اِقْرَأ

1034 -[12]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ.رَوَاهُ أَبُودَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد طوال مفصل کی قرأت کے دوران سجدہ نہیں کیا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ خیال رہے کہ اگر سجدۂ تلاوت فرض نماز میں کرے تو اس میں سجدے کی تسبیح پڑھنا افضل ہے اور اگرنماز میں یا خارج نماز میں کرے تو اختیار ہے خواہ صرف تسبیحیں پڑھے یا دوسری دعائیں یا دونوں۔

1035 -[13]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قرآنی سجدوں میں یوں کہتے تھے میری ذات نے اسے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ اپنی طاقت و قوت سے چیرے ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی)اور ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎ یہاں تہجد کی نماز یا خارج نماز میں سجدہ تلاوت مراد ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز مسجد میں پڑھاتے تھے،اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ ہوتی تھیں۔فتح القدیر میں ہے کہ سجدہ تلاوت میں یہ آیت پڑھنا



Total Pages: 519

Go To