Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب سجود القرآن

قرآنی سجدوں کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قرآن کریم میں چودہ سجدے ہیں اور یہ سب واجب ہیں احناف کے نزدیک اور سنت ہیں دوسرے اماموں کے ہاں،امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ رب فرماتا ہے:"فَمَا لَہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیۡہِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوۡنَ " یہاں رب تعالٰی نے "سجدہ تلاوت" نہ کرنے کو سخت جرم قرار دیا کہ اس کا ذکربے ایمانی کے ساتھ کیا، پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ تلاوت واجب ہے، اس سجدہ کے لیے پاکی تو شرط ہے مگر قیام سلام وغیرہ فرض نہیں۔

1023 -[1]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا ۱؎(بخاری)

۱؎ حضور علیہ السلام نے سجدے کی آیت پڑھ کر اور صحابہ نے سن کر سجدہ کیا،مشرکین نے اس موقعہ پر یا  اپنے بتوں لات و عزیٰ کا ذکر سن کر سجدہ کیا یا حضور علیہ السلام سے ذکر الٰہی  سن کر مرعوب ہوئے اور سجدہ میں گر گئے۔بعض روایا ت میں آیا ہے کہ اس موقع پر شیطان نے حضور علیہ السلام کی سی آواز بنا کر بتوں کی تعریف کی یا بغیر قصد حضور علیہ السلام کی زبان پر وہ الفاظ جاری ہوئے،مشرکین سمجھے کہ حضور علیہ السلام ہمارے دین کی طرف لوٹ آئے تو شکرانہ کے طور پر وہ سجدے میں گر گئے یعنی مسلمانوں نے سجدۂ تلاوت کیا اور مشرکوں نے اپنی غلط فہمی پر سجدۂ شکر مگر آپ کی زبان پر بتوں کی تعریف جاری ہونے کی روایت باطل محض ہے اور شیطان کا اپنی آواز کو حضور علیہ السلام کی آواز کی مثل بنا کر یہ کہہ دینا اسے بھی حضرت شیخ نے لمعات میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ میں باطل قرار دیا اور اس قصہ کو موضوع قرار دیا اور فرمایا کہ یہ مؤرخین کی ایجاد ہے،محدثین نے اسے نہیں لیا لیکن بعض علماء نے"اَلْقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمْنِیَّتِہ"کی تفسیر میں یہ پہلا واقعہ بیان کیا یعنی شیطان کا یہ کہہ دینا معلوم ہوتا ہے،صحابہ نے اس موقع پر جنات کو بھی سجدہ کرتے دیکھا۔

1024 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: (إِذا السَّمَاء انشقت)و (اقْرَأ باسم رَبك)رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ"اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتْ"میں اور"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ" میں سجدہ کیا ۱؎(مسلم)

۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں سورتوں میں سجدے ہیں۔ان لوگوں کا قول باطل ہے جو کہتے ہیں کہ مفصل میں کوئی سجدہ نہیں یا حضور علیہ السلام نے مدینہ آنے کے بعد ا ن میں سجدہ نہیں کیا یہ حدیث نہایت صحیح ہے اور ہم سب کا اس پر عمل ہے یہ حدیث بخاری میں بھی ہے مگر وہاں اِقْرَأ  کا ذکر نہیں۔

1025 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ (السَّجْدَةَ)وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ فَنَزْدَحِمُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا لِجَبْهَتِهِ مَوْضِعًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی آیت پڑھتے تو ہم آپ کے پاس ہوتے تو  آپ اور ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے بھیڑ لگ جاتی حتی کہ ہم میں کوئی اپنی پیشانی کے لیے جگہ نہ پاتا کہ جس پر سجدہ کرے  ۱؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To