$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1020 -[7]

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِي قَائِما فليجلس وَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْو» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب امام دو رکعتوں میں کھڑا ہوجائے تو اگر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے ۱؎  اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرلے۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎  کیونکہ ابھی تیسری رکعت کا قیام شروع نہیں ہوا لہذا بیٹھ جائے یہی صحیح ہے،بعض فقہاء نے فرمایا کہ اگر قیام سے قریب ہوگیا ہو اس طرح کہ گھٹنے زمین سے اٹھ گئے ہوں۔تب بھی نہ لوٹے مگر اس پر فتویٰ نہیں۔خیال رہے کہ اسے لوٹنے میں سجدۂ سہو بھی واجب نہ ہوگا۔

۲؎  واجب چھوٹ گیا بہت سے علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس حالت میں لوٹ آیا تو نماز جاتی رہے گی کیونکہ اس نے عمدًا فرض چھوڑ دیا،خیال رہے کہ اگر پانچویں رکعت میں کھڑا ہوگیا ہے تو سجدے سے پہلےیا د آنے پر لوٹانا واجب ہے کیونکہ وہ قیام فرض نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1021 -[8]

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعه فَخرج غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَصَدَقَ هَذَا؟» . قَالُوا: نَعَمْ. فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی اور تین رکعتوں میں سلام پھیردیا پھر اپنے گھر تشریف لے گئے ان کی خدمت میں ا یک صاحب حاضر ہوئے جنہیں خرباق کہا جاتا تھا ان کے ہاتھوں میں کچھ درازی تھی عرض کیا یارسول ا للہ پھر آپ کا عمل شریف ذکر کیا تو آپ غصے میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے تشریف لائے حتی کہ لوگوں تک پہنچ گئے فرمایا کیا انہوں نے درست کہا لوگوں نے کہا ہاں تو ایک رکعت پڑھی پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم)

۱؎ صحیح یہ ہے کہ یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ یہاں حجرے شریف میں پہنچ جانے کا ذکر ہے اور وہاں مسجد میں ٹھہرنے کا ذکر تھا،یہاں غصہ کی وجہ معلوم نہ ہوسکی اور دوسرے ثُمَّ سَلَّمَ سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدۂ سہو کے بعد بھی التحیات پڑھی جائے گی کیونکہ ثُمَّ تاخیر کے لیے آتا ہے۔

1022 -[9]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يشك فِي الزِّيَادَة» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو نماز پڑھے کہ کمی میں شک کرے تو اور پڑھ لے حتی کہ زیادتی میں شک کرے ۱؎ (احمد)

۱؎  یعنی اگر نمازی کو تردد ہے کہ میں نے تین پڑھیں یا چار تو تین مان کر ایک رکعت اور مان لے تاکہ اب یہ تردد ہو جائے کہ چار پڑھیں یاپانچ اور سجدۂ سہو کرلے کہ اگر پانچ رکعتیں ہوگئیں ہوں تو تاخیر سلام کی وجہ سے جو نقصان پیدا ہوا اس کا بدلہ اس سے ہوجائے گا۔خیال رہے کہ اس سارے باب میں حضور علیہ السلام کے سہوؤں کا ذکر ہوا پہلی التحیات میں نہ بیٹھنا دو رکعت پر سلام پھیر دینا،تین رکعت پر سلام پھیرنا،بجائے چار کے پانچ رکعتیں پڑھنا او ر ان سب میں سجدۂ سہو کا ذکر آیا۔ اس بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز کا واجب چھوٹ جانے



Total Pages: 519

Go To
$footer_html