$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1018 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عبد لله بن بُحَيْنَة: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن بحینہ سے  ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کوظہر پڑھائی تو پہلی دو رکعتوں میں بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۲؎ حتی کہ جب نماز پوری کی اور لوگوں نے سلام کا انتظار کیا تو آپ نے بیٹھے ہوئے تکبیر کہی سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا  ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  مشہو ر یہ ہے کہ بحینہ آپ کی والدہ کا نام ہے اور آپ کے والد کا نام مالک ہے،آپ والدہ کی طرف سے عبدالمطلب میں حضور علیہ السلام سے مل جاتے ہیں کیونکہ بحینہ بنت حارث ابن عبدالمطلب ابن عبدالمناف ہیں،آپ بڑے متقی،صائم الدھر صحابی ہیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات ہوئی۔

۲؎ معلوم ہوا کہ اگر ا مام پہلی التحیات بھول کر تیسری رکعت میں پورا کھڑا ہوجائے تو مقتدی لقمہ دے کر اسے واپس نہ کریں بلکہ خود بھی کھڑے ہوجائیں کیونکہ وہ بیٹھنا واجب ہے اور یہ قیام فرض،واجب کے لیے فرض نہیں چھوڑا جاسکتا۔

۳؎  اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں سجدۂ سہو کے لیئے سلام نہ پھیرے مگر دوسری قوی روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لیے سلام پھیرا ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عمر فاروق اعظم ہمیشہ سجدۂ سہو کے لیے سلام پھیرا کرتے تھے،فاروق اعظم کا یہ عمل اس حدیث کو تقویت دیتا ہے لہذا حق یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ مسلم،بخاری کی وہ روایت ہے جو فصل اول میں گزر گئی اور ہوسکتا ہے کہ یہاں سلام سے مراد نماز کے وہ دو سلام ہوں جن سے نماز ختم کی جاتی ہے اور مطلب یہ ہو کہ لوگوں نے سلام نماز کا انتظار کیا حضور علیہ السلام نے وہ سلام نہ پھیرا بلکہ سہو کا ایک سلام پھیر کر تکبیر کہہ دی تب اسے منسوخ ماننے کی ضرورت نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1019 -[6]

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بهم فَسَهَا فَسجدَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی کچھ بھول ہوگئی ۱؎ تو دو سجدے کیے پھر التحیات پڑھی پھر سلام پھیرا  ا ؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

 ۱؎ یعنی بھول سے نماز کا کوئی واجب رہ گیا کیونکہ ہر بھول پر سجدۂ سہو نہیں ہوتا۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ سجدۂ سہو کے بعد التحیات ہے گزشتہ حدیث میں التحیات کی نفی نہ تھی اور اگر ہوتی بھی تو اس کے مقابل یہ حدیث قابل قبول ہوتی کیونکہ نفی پر ثبوت مقدم ہے۔

1020 -[7]

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِي قَائِما فليجلس وَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْو» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب امام دو رکعتوں میں کھڑا ہوجائے تو اگر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے ۱؎  اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرلے۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html