Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یہ تلاش کا حکم اس صورت میں ہے جب کہ کسی جانب گمان غالب ہو اور اگر کوئی گمان غالب نہ ہو تو کم کو لے،لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔

1017 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن ابْن سِيرِين عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعشي - قَالَ ابْن سِيرِين سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا قَالَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفه الْيُسْرَى وَخرجت سرعَان مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالَ يَا رَسُول الله أنسيت أم قصرت الصَّلَاة قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثمَّ سلم. وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي أُخْرَى لَهُمَا: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَلَ «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» : «كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

روایت ہے حضرت ابن سیرین سے ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی ۲؎  ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے وہ نماز بتائی تھی لیکن میں بھول گیا ۳؎ فرماتے ہیں کہ ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر مسجد میں پڑی ہوئی لکڑی کی طرف تشریف لے گئے اور اس پر ٹیک لگائی گویا غصّے میں تھے ۴؎ اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا ۵؎ اور قوم کے جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے یہ کہتے نکلے کہ نماز کم ہوگئی ۶؎  اور قوم میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن انہوں نے کلام کرنے سے خوف کیا ۷؎ اور قوم میں ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے انہیں ہاتھوں والا کہا جاتا تھا۸؎ وہ بولے یا رسول اﷲ آپ بھول گئے یا نماز کم ہوگئی فرمایا نہ میں بھولا نہ نماز کم ہوئی پھر فرمایا کہ کیا ایسا ہی ہے جیسا ذوالیدین کہتے ہیں لوگوں نے کہا ہاں ۹؎  آپ آگے بڑھ گئے چھوٹی رکعتیں پڑھ لیں پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی پھر تکبیر کہی اور سجدوں کے برابر یا کچھ دراز سجدہ کیا ۱۰؎  پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ پھر سلام بھی پھیرا تو آپ کہنے لگے کہ مجھے خبر ملی کہ عمران ابن حصین نے کہا پھر سلام پھیرا ۱؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے نہ بھولا اور نہ نماز کم ہوئی یہ فرمایا کہ ان میں سے کچھ نہ ہوا ذوالیدین نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تو ہوا ہے ۱۲؎

۱؎  آپ کا نام محمد ہے،حضرت انس کے آزاد کرد ہ غلام ہیں،شہادت حضرت عثمان سے دو برس پہلے پیدا ہوئے،تیس صحابہ سے ملاقات ہوئی، فن حدیث و تعبیر خواب کے امام تھے،ایک بار جوزاتارے کو ثریا سے آگے بڑھا ہوا پایا تو فرمایا میری موت قریب ہے مگر پہلے حسن بصری وفات پائیں گے پھر میں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سو ۱۰۰ دن پہلے خواجہ حسن بصری فوت ہوئے بعد میں آپ۔(مرقاۃ)

 



Total Pages: 519

Go To