Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب السھو

بھولنے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یہاں سہو سے عمد کا مقابل مراد ہے لہذا اس میں خطا اور نسیان یعنی غلطی اور بھول دونوں شامل ہیں۔سہو کے لغو ی معنی غفلت ہیں،ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز کی بھول چوک مراد ہے۔بعض بھول سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے اور بعض سے نہیں۔شیخ نے فرمایا اس امت پر خدا کا بڑا احسان یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نمازوں وغیرہ میں بھول ہوتی تھی تاکہ امت کے لیے یہ بھول بھی سنت ہوجائے اور اس پر ثواب ملے جیسے بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ تندرستی اور بیماری بلکہ زندگی اور موت سنت رسول ہے اسی طرح سونا اور جاگنا اور مومن کے سارے کام۔

1014 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن أحدكُم إِذا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَان فَلبس عَلَيْهِ حَتَّى لايدري كَمْ صَلَّى؟ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سجدين وَهُوَ جَالس»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس پر شبہ ڈال دیتا ہے حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ کتنی نماز پڑھی  ۱؎ جب تم میں سے کوئی یہ پائے تو بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ ترجمہ بہت مناسب ہے فقہاء فرماتے ہیں کہ جسے اس بھول کی عادت ہو وہ کم کا لحاظ کر ے اور سجدۂ سہو کرے اور جسے پہلی بار یہ بھول ہوئی وہ نماز لوٹائے یہاں بھول کی عادت کا ذکر ہے جیسا کہ لَایَدْرِیْ سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎  ایک سلام پھیر کر جیسا کہ اور احادیث میں ہے۔خیال رہے کہ اس صورت میں ہمارے ہاں سجدہ واجب ہے،امام شافعی کے ہاں سنت،یہ حدیث ہماری دلیل ہے کیونکہ فَلْیَسْجُدْ امر ہے،امرو جوب کے لیے ہوتاہے یہاں شیخ نے فرمایا اَحَدُکُمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کو نماز میں بھول شیطانی اثر سے نہیں ہوسکتی بلکہ عالم غیب میں توجہ کی بناء پر ہوتی ہے۔سبحان اﷲ! بہترین بات فرمائی۔

1015 -[2]

وَعَن عَطاء بن يسَار وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أم أَرْبعا فليطرح الشَّك وليبن عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا. وَفِي رِوَايَتِهِ: «شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ»

روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے وہ حضرت ابوسعید سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شک کرے نہ جانے کہ کتنی پڑھیں تین یا چار تو شک کو دفع کرے اور یقین پر بنا کرے ۲؎ پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے ۳؎  پھر اگر پانچ پڑھ لی ہوں گی تو اس کی نماز کو شفعہ کردیں گے ۴؎  اگر چار رکعت پوری کرنے کو پڑھی تو سجدے شیطان کی ناک گرد آلود کریں گے ۵؎(مسلم)مالک نے عطاء سے ارسالًا روایت کی ان کی روایت میں یوں ہے کہ ان دو سجدوں سے نماز کو شفعہ کرے گا ۶؎

 



Total Pages: 519

Go To